کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ پاکستان کا استحکام پاکستان کے آئین میں ہے،اگر ملکی استحکام کی گاڑی بار بار پٹڑی سے اترتی رہے گی اور بار بار اس کو پٹڑی پر لا یا جائے گا تو یہ گاڑی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی،حکومت کودرپیش مسئلوں پر راتوں رات قانون سازی کی جاتی ہے جبکہ عوام کودرپیش مسائل پرکوئی قانون سازی نہیں ہوپارہی۔
پی ڈی ایم نے تحریک میں تیزی لائی تومجھے نہیں لگتا کہ حکومت دسمبر سے آگے چل پائے گی، بلوچستان عوامی پارٹی(باپ)پارٹی کی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تو ان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے خون کی ذرات ملیں گے،بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لانا ہمارا آئینی وقانونی حق ہے تاہم اس کیلئے نمبرز درکار ہیں میں مسلم لیگ(ن) کے پاس کسی وزارت کیلئے نہیں گیا جس کیلئے جام کمال اور ان کے والد محترم بھی گئے تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے حکومتوں کا ساتھ مراعات اور عہدوں کیلئے دیا تھا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں یہی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں بھی ہوا انہوں نے اعتماد بھی دیکھا اورعدم اعتماد بھی دیکھا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ہم کسی نقطے پر متفق ہوئے ہیں میں مسلم لیگ(ن) کے پاس کسی وزارت کیلئے نہیں گیا ہوں۔
جس کیلئے جام کمال اور اس کے والد محترم گئے تھے ہم آئین کی بالادستی اور اس کی حکمرانی،صاف وشفاف الیکشن کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں مسلم لیگ جب بلوچستان میں حکومت میں تھی تو ہم اپوزیشن میں تھے ان کیخلاف جو تحریک لائی گئی وہ غیرآئینی نہیں اور نہ ہی غیر قانونی تھی بلکہ ہم اسمبلی رولز کے مطابق عدم اعتمادکا تحریک لائے تھے یہ اور بات ہے کہ اب ہر آئینی اقدام جام کمال کو غیر آئینی نظر آتا ہے وہ بتائے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں وہ اسٹیٹ منسٹر کیوں بنے تھے اور کن نظریات کی بنیاد پر وہ وزارت پر براجمان تھے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان کے والد محترم کیا حکومت کے حصہ نہیں تھے۔
کیا وہ نواز شریف اور جنرل ضیاء ا لحق کی حکومت کا حصہ نہیں رہے ہم نے ایک سوچ اور مقصد کیلئے اتحاد کیا ہے فرق یہ ہے کہ جام کمال نے مراعات مفادات کیلئے حکومتوں کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھ پر جس تحریک عدم اعتماد کاالزام لگا یا جارہا ہے کیا اس میں جام کمال کے ایم پی ایز نہیں تھے وہ تو مسلم لیگ (ن) کے حصہ تھے مستقبل کے فیصلے پی ڈی ایم کے ایگزیکٹیو کمیٹی میں کئے جاتے ہیں۔
اس کا اختیار میرے پاس ہے اور نہ ہی مریم نواز کے پاس میں جاتی امراء مریم نواز کا شکریہ ادا کرنے گیا تھا کیونکہ بلوچستان میں ہمیں موقع نہیں ملا انہوں نے بلوچستان میں جو مسائل اٹھا ئے تھے بالخصوص لاپتہ افراد کا اس پر ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا تاہم بلوچستان ہوا یا پاکستان اور بالخصوص پی ڈی ایم سے متعلق تبادلہ خیال ہوا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے نمبرز درکار ہیں۔
اس وقت اپوزیشن میں بی این پی جمعیت پشتونخوا میپ اور ایک آزاد رکن ہے تاہم مسلم لیگ کا نہیں کہہ سکتا ان کا رکن اسمبلی ہمارا ساتھ دیگا یا نہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے تاہم حکومت کا ہمارے منتخب نمائندوں کے ساتھ رویہ افسوسناک ہے حکومت نے اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کیخلاف شکست خوردہ عناصر کو ترقیاتی فنڈز دیئے ہیں عوام کے مینڈیٹ کو لانے والوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
یہ ہمارے لئے ان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ بنارہے ہیں انہوں نے کہا کہ کافی حکومتی ارکان ناراض ہیں تاہم باپ پارٹی بنانے والے جام کمال نہیں بلکہ مائی باپ ہے مائی باپ کی ڈوریاں تھوڑی کٹ جائے تو یہ دوڑتے چلے آئینگے ناراض ہونے والوں میں آزاد ارکان بھی ہیں جنہوں نے بعدمیں باپ پارٹی جوائن کی تھی کچھ لوگ حکومت کی کارکردگی اور گورننس سے نالاں ہیں۔
2018کے الیکشن سے 8مہینے قبل دیکھا جائے تو باپ کا نام تک نہ تھا آج ان کے قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان یا سینیٹ کے ارکان ہو وہ دوسرے جماعتوں میں تھے ہم سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں چلائی ہیں بی این پی کی بات کی جائے تو بی این پی آج کی نہیں یہ نیپ کا تسلسل تھا پھر بی این این بنا اور بی این این سے اس کو ہم نے بی این پی بنا یا ہمارے قیادت نیپ اور بی ایس او سے چلے آرہے تھے۔
باپ پارٹی کی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تو ان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے خون کی ذرات ملیں گے لاپتہ افراد کے مسئلے پر عمران خان خودبھی ہمارے ساتھ ہمدردی کااظہار کرچکے ہیں مسلم لیگ (ن)کے سامنے ہم نے اپنے دکھ کاٹکڑا رکھا لیکن انہوں نے کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا کہ آپ ہمارا ساتھ دیں ہم لاپتہ افراد کو بازیاب کرینگے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں کے دوران لاپتہ افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
لیکن جو کمٹمنٹ وعدوں اور وعید ہوئے تھے وہ عمران خان اور اس کے پارٹی نے کئے تھے حکومت سازی کے دوران ہم نے اپنے نکات پیپلز پارٹی کے سامنے بھی رکھیں لیکن انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ نکات ہمارے بس کی بات نہیں لیکن پی ٹی آئی تو یہاں سے چلتی ہوئی کوئٹہ آئی جس میں شاہ محمود قریشی،جہانگیر ترین،سردار یار محمد رند شامل تھے وہ ڈاکومنٹس آج بھی ہمارے ساتھ ہیں اسی پر ہم نے حکومت کا ساتھ دیا تھا ہمارا معاہدہ یہ نہیں تھا کہ پچھلے دور حکومت میں کتنے لوگ لاپتہ ہوئے تھے ہمارا معاہدہ تھا کہ لاپتہ ا فراد کو بازیاب کرایا جائے گا اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ڈھائی سال میں 450لوگ بازیاب ہوئے۔
تو 15سو لوگ لاپتہ ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلے مسائل پی ڈی ایم کے نکات میں شامل ہے یہ کسی ایک جماعت کا مدہ نہیں یہ تمام جماعتوں کا متفقہ مدہ ہے مستقبل میں جس کی بھی حکومت ہو اگر وہ بلوچستان کو ساتھ لے جانا چاہتا ہو تو اس میں لاپتہ افراد کا مسئلہ سر فہرست ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان کا استحکام پاکستان کے آئین میں ہے اور ایک دائرہ اختیار میں رہ کر پارلیمنٹ سیاسی جماعتوں،عدلیہ ریاستی ادارے اپنا کردارادا کریں۔
تو پاکستان میں استحکام پیدا ہوسکتا ہے آج کوئی ایک اقتدار میں ہو ا ور کل کسی اور کو اقتدار میں لا یاجائے اس سے پاکستان میں استحکام پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ اسے سے نفرتیں بڑھیں گی اور نفرتوں میں غداری کے الزامات لگیں گے غداری کے الزامات سے بچنے کیلئے آئین پر عملدرآمد کیا جائے صاف وشفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہونی چاہیے اگر حکومت بنانے میں مداخلت نہ کی جائے تو ملک میں استحکام آسکتا ہے ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریگی۔
تو یہ گاڑی چل سکے گی ورنہ یہ گاڑی باربار پٹڑی سے اترتی رہے گی اور انہیں دوبار ہ پٹڑی پر لا یا جائے گا اس طرح سے گاڑی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی ہے لاسٹ کارڈ استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کا شیوہ رہا ہے پہلا مرحلہ کسی نتیجے پر پہنچ جائے تو دوسرے نتیجے کافیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم کیا لائحہ عمل طے کرینگے پی ڈی ایم کے ایگزیکٹیو کمیٹی کی جانب سے جوبھی فیصلہ ہوا ا س پر تمام سیاسی جماعتیں اتفاق کریگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی طبقہ حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں تبدیلی عوام لاتی ہے جب تک عوام کو مطمئن نہیں کیا جاتا توعوام اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور سیاسی جماعتیں اگر پچھلے بینچوں پر بیٹھ جائے تو عوام خود کھڑی ہوکر اپنے مسائل کا حق نکالتے ہیں پارلیمنٹ کومذاق بنایاگیاہے نہ قانون سازی ہو پارہی ہے تاہم حکومت کودرپیش مسئلوں پر راتوں رات قانون سازی کی جاتی ہے۔
جبکہ عوام کودرپیش مسائل پرکوئی قانون سازی نہیں ہوپارہی پی ڈی ایم نے تحریک میں تیزی لائی تومجھے نہیں لگتا کہ حکومت دسمبر سے آگے چل پائے گی۔دریں اثناء اوستہ محمد میں سیاہ کاری کے الزام میں خاتون کوقتل کردیاگیا،ملزم آ لہ قتل سمیت گرفتار کرلیاگیاہے۔
تفصیلا ت کے مطابق جعفر کالو نی میں ملزم محمد حسن دایہ نے اپنی بیوی مسماۃ (ن) کو سیاہ کاری کے الزام میں شارٹ گن سے فا ئر نگ کر کے اسے قتل کر دیا بتا یا جاتا ہے خاتو ن ٹیلی فون پر کسی سے بات چیت کررہی تھی اس شعبہ پر شوہر نے قتل کردیا اطلا ع ملتے ہی سٹی ایس ایچ او دا ود کھوسہ موقع پر پہنچ کر ملزم محمد حسن دا یہ کو آ لہ قتل سمیت گر فتار کر لیا اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا ء کے حوالے کردیا۔