|

وقتِ اشاعت :   November 3 – 2020

کوئٹہ: پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس محکمہ ثانوی تعلیم کے ساتھ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین پی اے سی اخترحسین لانگو نے کی۔اجلاس میں ممبران کمیٹی زابد علی ریکی، محمد نواز کاکڑ، ملک نصیر احمد شاہوانی اور نصراللہ زیرے نے بھی شرکت کی۔ محکمہ کے مختلف پیراز اور کمپلائنس رپورٹس پر محکمہ تعلیم کے پرنسپل آکاونٹننگ آفیسرثانوی تعلیم شیر خان بازئی اور ڈائریکٹر جنرل ثانوی تعلیم نظام الدین مینگل کی اکانٹنٹ جنرل بلوچستان فرخ سہیل ملک اور ڈی جی آڈٹ غلام سرور مندوخیل سے تفصیلی بحث ہوئی۔

چئیرمین پی اے سی اختر حسین لانگو نے ایک پیرا پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایکزیکیوٹنگ ایجنسیوں کے کام کی جانج پڑتال کرنا اور ان سے ریکارڈ لینا محکموں کی ذمہ داری ہے کیونکہ محکموں کے پرنسپل اکانٹنگ آفیسر ہی جب کام کے لئے کسی ادارے کو پیسے مہیا کرتے ہیں تو انکے کام کی جانج پڑتال متعلقہ محکموں نے ہی کرنی ہے۔ دوران اجلاس ممبران کمیٹی نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ مارچ میں اسکول کھلتے ہیں۔

اور مئی تک بچوں کو کتابیں نہیں ملتیں جبکہ محکمہ کو کتابوں کی مد میں کروڑوں روپے ملتے ہیں۔ اسکولوں میں بیس فیصد بھی بچوں کو بروقت کتابیں نہیں ملتیں جبکہ وہی کتابیں بازاروں میں موجود ہوتی ہیں یہ محکمہ کی کمزوری ہے چیئرمین نے محکمہ کو تلقین کی کہ اسکولوں میں موجود والدین اور اساتذہ جیسے کمیٹیوں کو فعال بنا کر اسکولوں کے کتابوں کا مسئلہ حل کیا جائے تاکہ آئندہ ایسی شکایات موصول نہ ہوں اور محکمہ خزانہ کو سختی سے ہدایت کی کہ اسکولوں کو بروقت پیسے مہیا کریں۔

تاکہ بچوں کی پڑھائی میں خلل نہ پڑے۔چئیرمین کمیٹی نے دوران اجلاس کہا کہ جب کوئی رقم محکموں کے استعمال میں نہ آتا ہو تو وہ رقم اکاونٹ ون میں جلد از جلد جمع کروائیں۔ انھوں نے ایک پیرا پر محکمہ سے سوال کیا کہ جب سرکار بچوں کے مطالعاتی ٹور اور اسکالرشپ کے لئے پیسے مہیا کرتا ہو تو وہ پیسے اکاونٹس میں رکھ کر کیوں خرچ نہیں کیے جاتے۔ بچوں کے مطالعاتی پروگرامز کے لئے مختص پیسہ بچوں پر جلد از جلد خرچ کیا جائے۔

اور آئندہ ایسے پیراز پی اے سی تک نہ پہنچے۔ چئیرمین پی اے سی نے کہا اے جی بلوچستان اور خزانہ آفسسز سیلز ٹیکس کی کٹوتی خود کریں۔ کیش بک اور بینک اکاونٹ میں تغیرات کے پیراز پر چئیرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم نے کیش بک میں کٹنگ کرکے بہت بڑی غفلت کی ہے۔ کیش بک اور سروس بک میں کٹنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیش بک میں کٹنگ کے لئے ریکنسائل کروایا جاتا ہے۔

لہذا محکمہ کیش بک کو واپس ریکنسائل کروا کر پی اے سی کے آئندہ کے اجلاس میں ریکنسائلڈ ریکارڈ جمع کروائے۔ چئرمین پی اے سی نے کٹنگ پر محکمہ کو تنبیہ کی کہ کیش بک پر کٹنگ کرنے والے شخص کو جلد از جلد وارننگ جاری کریں۔محکمہ خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری حبیب الرحمن جاموٹ نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بارہ سو سے زائد ایسے اساتذہ ہیں جن کی تنخواہیں محکمہ خزانہ سے ایکسس میں جا رہی ہے۔

انتظامیہ کی منظوری کے بغیر 1200 اساتذہ کی تنخواہیں محکمہ خزانہ دے رہی ہے، خزانے میں 1200 اساتذہ کی منظوری کی ریکارڈ موجود نہیں۔ چئیرمین پی اے سی نے کہا کہ چھ سات ماہ پہلے پی اے سی نے ہدایت جاری کی تھی کہ محکمہ خزانہ اور محکمہ تعلیم آپس میں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔ لیکن مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے۔ چئیرمین پی اے سی نے پیرا پر اپنی ہدایات میں کہا کہ محکمہ خزانہ اور محکمہ تعلیم دو ماہ میں بیٹھ کر اس کا حل نکال کر کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کریں۔

ایک کمپلائنس پیرا پر محکمہ کی جانب سے متضاد بیان پر چئیرمین نے پیرا مزید تفتیش کے لئے اینٹی کرپشن کے حوالے کر کے کہا کہ اینٹی کرپشن کے رپورٹ کے بعد پی اے سے اپنا فیصلہ جاری کرے گا۔