|

وقتِ اشاعت :   November 5 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں درجنوں موٹر سائیکلوں و گاڑیوں کے علاوہ سینکڑوں ملازمین کی شرکت۔ احتجاجی ریلی بلوچستان اسمبلی اور مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ڈی جی لیبر رجسٹرار ٹریڈ یونین بلوچستان کے دفتر سمنگلی روڈ پہنچی۔ تمام راستے مزدوروں اور ملازمین نے بلوچستان میں مزدور قوانین پر دیگر صوبوں کی طرح عمل نہ کرنے۔

بلوچستان حکومت کی نا اہلی اور حکومت بلوچستان کی مزدور دشمن پالیسیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ ڈی لیبر بلوچستان کے دفتر کیسامنے احتجاجی مظاہرے سے بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان قاسم خان بشیر احمد عبدالمعروف آزاد ملک وحید کاسی عابد بٹ محمد عمر جتک اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لیبر قوانین کو مکمل طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی لیبر بلوچستان اور رجسٹرار ٹریڈ یونین سرکاری اداروں کے افسران کو فون کرکے آگاہ کررہے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی یونین نہیں مزدوروں اور ملازمین کو جتنا دبایا جاسکتاہے دبائیں یہی وجہ ہے کہ محکمہ بی ڈی اے کے مزدور ملازمین اس مزدور دشمن ڈی جی کی پالیسیوں کی سزا بھگت رہے ہیں اداروں حکومت اور ملازمین میں نفرت کی فضا قائم کی گئی جس کے ذمہ دار ڈی جی لیبر بلوچستان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں سندھ پنجاب خیبر پختنخوا کی طرح لیبر قوانین پر عمل نہیں ہوتا تو یہ بلوچستان حکومت کی نااہلی ہے بلوچستان میں لیبر لا معطل ہے تو محکمہ محنت و افرادی قوت بلوچستان سیکرٹری لیبر اور دیگر ادارے کیا کررہے ہیں ان دفاتر کو تالے لگا دیئے جائیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان لیبر فیڈریشن صوبے میں لیبر قوانین کی عمل داری آئین پاکستان کے تحت بنیادی حقوق کے حصول بلوچستان میں ٹریڈ یونین پر عائد غیر قانونی پابندی اور ڈی جی لیبر کے مزدور دشمن اقدامات اور بلوچستان حکومت کی جانب سے ان نا انصافیوں کا ازلہ نہ کرنے کیخلاف اپنا پر امن احتجاج جاری رکھے گی۔ آئندہ بدھ 11 نومبر کو مزدور مسائل حل نہ ہونے کیخلاف دن ساڑھے گیارہ بجے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا جائیگا۔