|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2020

کو ئٹہ: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی نوجوان نسل کیلئے کمیشن کے امتحانات یقیناً اُمید کی کرن ہے مگر پچھلے کئی سالوں سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں بلوچستان کیلئے مختص نشستیں وں کا مسلسل خالی رہ جانا ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے. گورنر یاسین زئی نے بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے تمام وائس چانسلرز کو خصوصی ہدایت دی کہ سردست ہنگامی بنیادوں پر یونیورسٹی کی سطح پر سی ایس ایس امتحانات کے خوائش مند افراد کی رہنمائی اور تیاری کروانے کی جامع حکمت عملی وضع کیا جائے۔

تاکہ صوبے کے طلباء و طالبات بھی کمیشن امتحانات کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں بلوچستان کے نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر، چیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن حسیب اختر، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی۔

تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر فتح مری، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان شاہنواز علی اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ممبرز ڈاکٹر شعیب میر، زبیر محمود اور ارباب محمد عارف بھی موجود تھے. اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں مقابلہ کے امتحانات کے حوالے سے تیاری کروانے اور نوجوانوں کو فکری رہنمائی فراہم کرنے کے حوالے سے کوچنگ سینٹرز کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

ہمارے نوجوان ذہین اور تخلیقی جوہر رکھنے والے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کیلئے مناسب مواقع اور ضروری سہولیات فراہم کیا جائے گورنر یاسین زئی نے صوبہ بھر کے مختلف تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل گریجویٹس کو مقابلے کے امتحانات کی جانب مائل کرانے کیلئے شعور و آگاہی کی بھرپور مہم چلائی جائے. اجلاس کے شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں فوکل پرسن کے انتخاب اور اکیڈمی کے قیام سمیت کئی اہم فیصلے کئے گئے۔