وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ اگر 22 مارچ کو اجلاس نہیں ہوا تو 25 کو ہوجائےگا، اپوزیشن کوکیا تکلیف ہے؟
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 آئین کا بنیادی حصہ ہے، سپریم کورٹ سے اس کی تشریح مانگی گئی ہے، یہ معاملہ اب منطقی انجام تک پہنچےگا، اگر 22 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوا تو 25 کو ہو جائے گا، اپوزیشن کو کیا تکلیف ہے، اجلاس تین دن بعد ہوجاتا ہےتو کیا قیامت آجائےگی؟
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بڑے مافیاز کو اکھاڑنا ایک چیلنج ہے، عمران خان نے زندگی میں ہمیشہ بڑے چیلنجز لیے ہیں، عمران خان ڈٹ کر کھڑے ہیں، اپنے منحرف ارکان کو سات روز کا موقع دیا ہے، منحرف ارکان اگر واپس نہیں آتے تو عمر بھرکے لیےنا اہلی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ڈاکوؤں اور چوروں کی سلطنت کھڑی کردی ہے، انھیں لگتا ہے کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہوگا،لیکن کوئی کھڑا نہیں ہوگا، منحرف اراکین اپنے بچوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، ہم نے ایک بھی دوسری پارٹی کا ممبر نہیں توڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں، اسلام کے نام پر ووٹ لیا پر اسلام کے لیےکیا کیا؟ کیا پاکستان کے آئین کے تحت ضمیر فروشی اور لوٹا فروشی کی اجازت ہے یا نہیں۔