|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2024

کوئٹہ:کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جا ری ،نوکنڈی ،کیچ اور پنجگور میں کچے مکانات اور دیواریں گرنے سے 1شخص جاں بحق 2افراد زخمی جبکہ فصلوں،سولر پینلز اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا۔ لسبیلہ کے پہاڑی علاقوں کنراج کھرڑی میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے

مکران کوسٹل ہائی بزی ٹاپ زیر تعمیر پل کا متبادل راستہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا لسبیلہ راستہ بہہ جانے سے ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں۔شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر پرنسز آف ہوپ کے مقام پر گزشتہ بارشوں کے باعث ٹوٹے ہوئے پل کا متبادل راستہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے۔ پنجگور میں پی ٹی سی ایل کے ریپیٹر اسٹیشن پر آسمانی بجلی گرنے سے تسپ ٹیلی ٹیلی فون ایکسچینج مکمل بند ہوگیا ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں بارش برسانے والا سسٹم داخل ہو نے کے بعد اتوار کو بھی کوئٹہ، نوکنڈی ،تفتان ، سیندک ، یک مچ ، چاغی ، دالبندین، ژوب، شیرانی، بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو، سبی، جھل مگسی،لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، قلات، خضدار ،زیارت، کوہلو، بارکھان، مسلم باغ، تربت، ہرنائی، کوہلو، نصیر آباد، جعفرآباد، چاغی ،پنجگور، گوادر اور کیچ میں آندھی،جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے مو سلا دھار بارش جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کا سلسلہ جا ری رہا،محکمہ موسمیات کے مطابق پسنی میں70 ملی میٹر ، دالبندین میں28، تربت میں18، پنجگور میں10، لسبیلہ میں09، جیوانی میں08، خضدار میں07، بارکھان میں06، گوادر میں05، کوئٹہ میں03، سبی میں02اور اورماڑہ1 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی جس کے باعث برساتی ندی نالوں میں طغیانی آنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔

شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے پر پرنسز آف ہوپ کے مقام پر گزشتہ بارشوں کے باعث ٹوٹے ہوئے پل کا متبادل راستہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے۔ کئی گھنٹوں سے پرنسز آف ہوپ کے مقام پر دونوں اطراف سندھ اور مکران آنے جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ سندھ مکران سفر کرنے کرنے والے مسافروں کو شدید دشواری اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ دوسری جانب موسلادھار بارشوں کے سبب اورماڑہ شہر میں ندی نالے بھر جانے اور مختلف مقامات پر بارش کا پانی جمع ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ اورماڑہ کے علاقے جونالین میں ندی میں سیلابی ریلے ندی کنارے واقع آبادی والے علاقوں میں داخل ہو گئے۔

ندی بپھر جانے سے جونالین میں ندی کنارے پہ واقع آبادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پنجگور میں آندھی اور طوفانی ہواؤں گرچ چمک کے ساتھ بارشوں سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات دیواریں بجلی کے کھمبے گر گئے پی ٹی سی ایل کے ریپیٹر اسٹیشن پر آسمانی بجلی گرنے سے تسپ ٹیلی ٹیلی فون ایکسچینج گزشتہ دو روز سے مکمل بند ہو گئے ہیں۔

پورے علاقے کی نیٹ اور لینڈ لائن فون سروس معطل ہوگئی ہیں زمینداروں کے سولرز سسٹم بڑے پیمانے پر تباہ ہوگئے گندم کی تیار فصل کو بھی نقصان پہنچا ہے مواصلاتی نظام متاثر ۔تفصیلات کے مطابق پنجگور اور گرد و نواح میں آندھی طوفانی ہواؤںا ور گرج چمک کے ساتھ بارشوں سے متعدد کچے مکانات دیواریں بجلی کے کھمبے گر گئے ڈرگ دپ کے قریب پی ٹی سی ایل کے ٹاور پر آسمانی بجلی گرنے سے تسپ ایکسچینج سے منسلک سسٹم ناکارہ ہو جانے سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا رابطہ سڑکیں متاثر رہے جبکہ زمینداروں کے سولرز سسٹم بڑے پیمانے پر طوفانی ہواؤں سے تباہ ہوگئے اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے گندم کی تیار فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ضلع چاغی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے گرج چمک کیساتھ تیز ہوائوں کیساتھ بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ کر موسم خوشگوار ہو گیا نوکنڈی ،تفتان ، سیندک ، یک مچ ، چاغی ، دالبندین سمیت مختلف دیہاتوں میں گرج چمک کیساتھ بارش سے پورا علاقہ پانی سے جل تھل ہو گیا ندی نالوں میں طغیانی انے سے نشیبی علاقے زیر اب اگئے دالبندین کے میدانی علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے کوئی مالی جانی نقصان نہیں ہوا طوفانی ہوائوں کے چلنے سے پوستی اور ڈک ایریا میں سولر پینل سسٹم کو نقصان پہنچا۔

جبکہ کوئٹہ میں مو سلار دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے شہر میں نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے سڑکیں برساتی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں ، جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ، ڈبل روڈ، شہباز ٹائون، جناح ٹائون، پرنس روڈ، میکانگی روڈ، خدائیدار روڈ ، سبزل روڈ پر بارش کا پانی سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں داخل ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا تاہم میٹرو پو لیٹن کا رپوریشن کا عملہ کہیں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر تے ہوئے دیکھائی نہیں دیا گیا۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلو چستان اور ایڈ منسٹر یٹر کوئٹہ سے اپیل کی ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے پر میٹرو پو لیٹن کا رپوریشن کا عملہ تبدیل کر کے انکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا ئے ۔ڈی سی کیچ حسین جان بلوچ کے مطابق کیچ موسلادھار بارش کے باعث کیچ میں مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوئے جبکہ متعدد سرکاری عمارتیں، کچے مکانات اور دیواریں گر گئیں۔

حسین جان بلوچ کے مطابق کیچ میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث گندم کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ کیچ کے مختلف علاقوں میں سولر پینلز بھی ٹوٹ گئے۔ ڈی سی پنجگورکے مطابق مو سلا دھار کے باعث چند گھروں کی چھتیں گر نے اور سولر پلیٹس کو بھی نقصان پہنچا اور سر اسیائی کے مقام پر6ٹاور گرنے سے پنجگور شہر کو بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی جس کی مرمت کا کام جا ری ہے ۔محکمہ پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے اسپن کاریز کے مقام پر بھاری مشینری اور ریسکیورز موجودہے ۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج ( پیر) کوکوئٹہ ،ژوب، شیرانی، بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو، سبی، جھل مگسی، لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ ، قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، قلات ، خضدار، بارکھان، مسلم باغ، تربت، ہرنائی،نصیر آباد، جعفرآباد، پنجگور، گوادر اور کیچ میں آندھی وتیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے جس کے باعث مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا اندیشہ ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے خطرات ہیں۔

اس لئے لوگ بارشوں کے دوران احتیاط برتیں سفر اور بارش کے دوران باہر نکلنے سے گریز کریں کیونکہ آسمانی بجلی گرنے سے اموات ہو رہی ہیں، آسمانی بجلی عموماً کھلی و بلند جگہوں پر گرتی ہے۔عوام آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں، شہری گرج چمک کے دوران درختوں کے نیچے پناہ لینے اور بیٹھنے سے گریز کریں۔کھلے آسمان تلے چمکدار اشیاء بالکل اپنے ساتھ نہ رکھیں، جانوروں کو کھلے مقامات پر نہ باندھیں، لوہے کی چیزوں، گاڑیوں اور کھمبوں سے دور رہیں، میدانی علاقوں، ساحلوں اور دیگر کھلے مقامات پر نہ جائیں۔