یہ تو واضح نہیں ہے کہ سینڈر ہینز (Sander Heyns) نامی مذکورہ ریٹیل اسسٹنٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ یہ تصویر کب کھینچوائی، لیکن سینڈر نے یہ تصویر جمعے کی شام اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی، تاہم واضح رہے کہ یہ تصویر ہفتے کی دوپہر ڈیلیٹ کردی گئی.
دلچسپ بات یہ رہی کہ اسکیبل کے مذکورہ ملازم نے پہلے نواز شریف کا عہدہ ‘صدرِ پاکستان’ لکھ ڈالا تھا تاہم ان کے فالوورز نے نشاندہی کی کہ یہ ‘پاکستان کے وزیراعظم’ ہیں۔
واضح رہے کہ اسکیبل، لندن کے پوش علاقے مے فیئر میں واقع ہے، جہاں سے لندن کا طبقہ اشرافیہ خریداری کرتا ہے.
اس طرح بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دورہ لندن کے دوران وزیراعظم کا منصوبہ ہے کہ اپنی وراڈروب میں مزید کپڑوں کا بھی اضافہ کیا جائے.
شاپنگ کے دوران وزیراعظم پینٹ شرٹ کے اوپر بلیک جیکٹ پہنے ہوئے نظر آئے جبکہ انھوں نے گلے میں ایک سلک رومال بھی ڈال رکھا ہے.
دوسری جانب اسکیبل کے نمائندے نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا.
‘طبی دورے’ کے دوران وزیراعظم کی لندن میں شاپنگ
![]()
وقتِ اشاعت : April 16 – 2016
یہ تو واضح نہیں ہے کہ سینڈر ہینز (Sander Heyns) نامی مذکورہ ریٹیل اسسٹنٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ یہ تصویر کب کھینچوائی، لیکن سینڈر نے یہ تصویر جمعے کی شام اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی، تاہم واضح رہے کہ یہ تصویر ہفتے کی دوپہر ڈیلیٹ کردی گئی.
دلچسپ بات یہ رہی کہ اسکیبل کے مذکورہ ملازم نے پہلے نواز شریف کا عہدہ ‘صدرِ پاکستان’ لکھ ڈالا تھا تاہم ان کے فالوورز نے نشاندہی کی کہ یہ ‘پاکستان کے وزیراعظم’ ہیں۔
واضح رہے کہ اسکیبل، لندن کے پوش علاقے مے فیئر میں واقع ہے، جہاں سے لندن کا طبقہ اشرافیہ خریداری کرتا ہے.
اس طرح بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دورہ لندن کے دوران وزیراعظم کا منصوبہ ہے کہ اپنی وراڈروب میں مزید کپڑوں کا بھی اضافہ کیا جائے.
شاپنگ کے دوران وزیراعظم پینٹ شرٹ کے اوپر بلیک جیکٹ پہنے ہوئے نظر آئے جبکہ انھوں نے گلے میں ایک سلک رومال بھی ڈال رکھا ہے.
دوسری جانب اسکیبل کے نمائندے نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا.