کوئٹہ: بلوچستان کے سب سے بڑے نہری نظام پٹ فیڈر کینال کا توسیعی منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے سفید ہاتھی بن گیا دو ارب 24 کروڑ کی لاگت سے 2007ء میں شروع ہونیوالا ی منصوبہ 7 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا جبکہ منصوبے لا گت5 ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئی توسیع منصوبے کے بعد پٹ فیڈر کینال سے گزرنے والی پانی کی سطح 50 فیصد کم ہو گئی ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود من پسند ٹھیکیداروں کو کروڑوں روپے کی ادئیگیاں کر دی گئی ذرائع کے مطابق ناقص کنسلٹینسی پر صوبائی حکومت کی جانب سے بار ہا شکایات کے باوجودمنصوبے کی کنسلٹینسی فرم نے حکومت کو کروڑوں کا چونا لگادیا بلوچستان کے علاقے کشمور سے جھل مگسی تک 179 کلو میٹر طویل پٹ فیڈر کینال توسیعی منصوبے کیلئے وفاقی حکومت نے2 ارب 24 کروڑ روپے مختص کئے تھے اس منصوبے کو 2 سال کے اندر اندر مکمل کر نے کا کنسلٹنٹ فرم نے معاہدہ کیا تھا لیکن دس سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال پایہ تکمل تک نہ پہنچ سکا جبکہ منصوبے پر تخمینہ لاگت 5 ارب سے تجاوز کر گیا اس منصوبے پر کام کرنے والی کنسلٹنٹسی فرم کی صوبائی حکومت کی جانب سے ناقص کارکردگی کی بار ہا شکایات بھی کی لیکن بااثر افراد کے عمل دخل سے نا تو کمپنی کے خلاف کا رروائی ہوئی نہ ہی اس فرم کو منصوبے سے ان کو الگ کیا اس منصوبے پر کل10 پرائیویٹ تعمیراتی کمپنیاں کام کر رہی ہے پیکج نمبر18 پرکام کرنیوالی کمپنی نہ صرف کنسلٹنٹ فرم کی منظور نظررہی بلکہ اسے سب سے زیادہ رقم کی ادائیگی کی گئی ذرائع کے مطابق اب تک اس کمپنی کو 1 ارب55 کروڑ ادائیگی کی جاچکی ہے جبکہ اس کمپنی کو صرف 13 کروڑو روپے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے ڈیڑھ ارب سے بھی زائد ہو گیا ہے توسیعی منصوبے میں بعض کمپنیوں کو امن وامان کے حوالے سے خراب صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑااس توسیعی منصوبے کیلئے کنسلٹنٹ فرم کیساتھ ساڑھے 6 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا گیا تھا لیکن کئی سال گزرنے کیساتھ ساتھ کمپنی کو اب تک 48 کروڑ 49 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے اتنے بڑے منصوبے میں نہ صرف سنگین مالی بدعنوانیاں ہوئیں بلکہ وقت کا ضیاع اور پٹ فیڈر کینال میں پانی کا بھاؤ بھی کم ہوا جس سے بلوچستان کے زمینداروں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا جھل مگسی میں صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے طارق مگسی ڈیم کیلئے مختص کئے جانے والے کروڑ روپے حکومت کی منظوری کے بغیر اس منصوبے میں جھونک دیئے گئے 2014ء میں منصوبے میں کرپشن کی انکوائریاں شروع کی گئیں لیکن یہ انکوائریاں بھی فائلوں کے اندر دب کر رہ گئیں تاحال اس منصوبے میں کرپشن کے حوالے سے نہ تو کنسلٹنٹ فرم سے پوچھ گچھ کی گئی اور نہ ہی کنسلٹنٹ فرم کے من پسند ٹھیکیداروں کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی البتہ چند کمپنیوں کو فنڈز واپس کرنے کے حوالے سے خط ضرور لکھے گئے ہیں ۔