|

وقتِ اشاعت :   April 28 – 2016

کوئٹہ: بی این پی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ بلوچ قوم اپنے قومی حقوق کی دفاع ساحل وسائل پر حق کے ملکیت کی حصول میں سیاسی اورجمہوری جدوجہد میں اپنا بھر پور کرداراد ا کرتے ہوئے آنے والے چیلنجز اور مشکل کھٹن حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پارٹی کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی قومی تحریک شہداء کے قربانیوں اورجدوجہد سے بھری پڑی ہوئی ہیں یہ سرزمین ہمیں کسی نے تحفے کے طورپر نہیں دیا بلکہ ہمارے آباؤ اجداد اوراکابرین نے طویل ترین جدوجہد قربانیوں کا سامنا کرتے ہوئے حوالہ کیا ہے جس کی حفاظت کیلئے اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چل کر جدوجہد کرنا ہوگا۔ ان خیالات کااظہار برمہ ہوٹل سریاب میں منعقدہ شہید نظرجان بلوچ کی برسی کے جلسہ عام سے بی این پی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ ،مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیراحمد شاہوانی مرکزی لیبر سیکرٹری منظوربلوچ، مرکزی ہمن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری ملک عبدالرحمان خواجہ خیل سردار محمدعمران بنگلزئی میر مراد خان مینگل بی ایس او کے سابق چیئرمین اورپارٹی کے رہنماء جاوید بلوچ ،ضلعی سینئر نائب صدر یونس بلوچ، حاجی عبدالباسط لہڑی اور مجیب الرحمان لہڑی نے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک محئی الدین لہڑی نے سرانجام دیئے شہید نظر جان بلوچ شہدائے بلوچستان اوردنیا کے تمام شہداء کے قومی تحریکوں کے خاطر اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر احترامن ایک منٹ کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی گئی انہوں نے کہاکہ آج دنیا کی نظریں گوادر اور بلوچ وسائل پر لگی ہوئی ہے کیونکہ گوادر کی جیوپولیٹیکل اہمیت کے حامل ساحل پر دنیا کی تمام قوتیں اپنے معیشت کو مضبوط اور تقویت کا ذریعہ بناکر اپنے دست راست پر لانا چاہتے ہیں انہیں یہاں کے عوام کی ترقی وخوشحالی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے گوادر کے مقامی آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے بوند بوند ترس رہے ہیں حکمران کو اگر یہاں کے عوام کی ترقی فلاح وبہبود عزیز ہوتی تو وہ گوادر کے تمام اختیارات اہلیان بلوچستان کی حوالے کرتے۔تاکہ یہاں کی پسماندگی دورہوسکے انہوں نے کہاکہ بلوچ عوام کو کسی وبال نے پسماندہ لاغرکمزورمجبور اورمفلس نہیں کیا ہے بلکہ حکمرانوں کی استحصالی پالیسیوں لوٹ اورکھوسٹ اورآمرانہ روش نے آج زندگی کے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم کررکھا ہے جو کہ دوقت کی روٹی کیلئے محتاج اورکسمپرسی کی حالات میں زندگی بسر کرنے پرمجبوراستحصال کاشکار ہیں جبکہ مہذب اورترقیافتہ ملکوں میں جانوروں کے سہولیات کیلئے قانون اورانصاف موجود ہے جبکہ یہا ں کے فرزندوں کو محض اپنے بنیادی حقوق واک واختیار طلب کرنے کی سیاسی جمہوری انداز میں آواز بلند کرنے کی پاداش میں ظلم وجبر کا نشانہ بناکر غائب کیاجاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بلوچ عوام گزشتہ کئی عشروں سے مظالم ناانصافیوں کامقابلہ کرتے ہوئے سیاسی اورجمہوری انداز میں اپنے قومی حقوق کیلئے سراپااحتجاج انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بلوچ عوام کواپنے بقاء وجود تہذیب وتمدن تخشص سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے بہت سے چیلنجز اورسازشوں کاسامنا ہے ان چیلنجز اورسازشوں کو سیاسی جمہوری انداز میں جدوجہد کے ذریعے عوام کو متحرک کردار ادا کرکے ناکام بنایاجاسکتا ہے جس کیلئے پارٹی کے کارکنوں کو دن رات ایک کرکیپارٹی کومضبوط اور منظم بنانے پر اپنے تمام تر جملہ تانوائیوں کو بروئے کار لاناہوگا کیونکہ پارٹی کو سیاسی جمہوری انداز میں فعال اورمتحرک کئے بغیر کسی بھی صورت میں غصب شدہ حقوق کی تحفظ نہیں کیاجاسکتا ہے اورنہ آنے والے عوام دشمن منصوبوں کو روکاجاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ دنیا کے کوئی بھی قانون کسی بھی غیرملکی مہاجرین کو سرکاری دستاویزات کی فراہمی کے اجازت نہیں دیتا ہے یہ عمل یہاں کے ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ عمل یہاں کے مقامی لوگوں کو اقلیت میں بدلنے کی سوچاسمجھا منصوبہ ہیں اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے مہاجرین کے انخلاء کے بغیر کرائے جانے والے مردم شماری کا کوئی بھی فیصلہ غیراخلاقی اورغیرقانونی ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مخدوش حالات کا تقاضا ہے کہ پارٹی کے کارکن اپنے تمام تر کوشش تنظیم کاری اورعوامی رابطہ مہم کی طرف توجہ دیں اوریہاں کی لوگوں کو اپنے حقوق وفرائض کے بارے میں شعور آگاہی مہم میں تیزی لاکر اپنا تنظیمی اورقومی ذمہ داریوں کو پورا کریں ورنہ اس کھٹن مشکل حالات میں معمولی اختلافات انفرادی مفادات کی حصول اورکوئی بھی کمزوری سے قومی جدوجہد کی طرف توجہ ہٹانے سے آنے والے تاریخ ہمیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریں گے۔اس موقع پر بی ایس او کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری شوکت بلوچ، سینٹرل کمیٹی کے اراکین امجد بلوچ، حفیظ بلوچ ،ضلعی سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی، کسان ماہی گیر سیکرٹری ملک محمدابراہیم شاہوانی، میرشاہ جہان لہڑی حاجی محمدابراہیم پرکانی حاجی فاروق شاہوانی، میرمحمدحنیف رستم زئی فیض اللہ بلوچ چیئرمین اقبال بلوچ، حاجی خان محمد لہڑی محمدآصف بنگلزئی ارباب عابد نواز کاسی ، شیر محمدلہڑی، میربلوچ،ظفر نیچاری، ملک محمدعمر بنگلزئی، شاہ خالد مینگل، ٹکری عبدالشکور لہڑی ملک نصیرقمبرانی، میر سعیداحمد لہڑی، نزیراحمد لہڑی، میرکاول خان مری،غلام مصطفیٰ مگسی، غلام فرید مینگل، نوردین مینگل، فیض محمد لہڑی، حاجی عزیز احمد مینگل، دوست محمد بلوچ، ماسٹر عبدالحلیم بنگلزئی، بابومراد بلوچ، میرمحمداکرم بنگلزئی، حاجی عبدالرشید لہڑی، پرویز بلوچ ،ظہورکرد، میراحمد مینگل، میرثناء اللہ لہڑی، علی بخش لہڑی، حاجی الطاف لہڑی، شاہ فیصل لہڑی غلام قادرلہڑی، نقیب اللہ مینگل سمیت پارٹی کے علاقائی عہدیداران اورمعززین ومعتبرین بھی کثیر تعداد میں موجودتھے ۔