دمشق: شام کے شہر حلب میں غیر ملکی طیاروں نیہسپتال پر بم برسا دیئے جس کے نتیجے میں 3 ڈاکٹرو ں اور3 بچوں سمیت 27 افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شام کے شہر حلب میں چند نامعلوم طیاروں نے اچانک القدس سپتال کومیزائل سے نشانہ بنایا جس سے اسپتال میں موجود3 ڈاکٹروں اور 3 بچوں سمیت 27 افراد جان کی بازی ہار گئے ہلاک ہونے والوں میں حفاظت پر مامور 2 گارڈ اور ایمبولینس ڈرائیور بھی شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں القدس ہسپتال کے مرکزی دروازے پر موجود افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس ہسپتال کو القاعدہ کے لو گ چلا رہے تھے۔ شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ اس اسپتال کو عالمی فلاحی تنظیم ڈٓاکٹرز ود آٹ بارڈر کے تعاون سے چلایا جا رہا تھا اور یہ جنگ سے شدید متاثرہ اس علاقے کا واحد اسپتال تھا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر مریض شامل ہیں جو علاج کی غرض سے وہاں آئے تھے لیکن موت ان کا مقدر بن گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ حملہ آور طیارے کس ملک کے تھے۔شام میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ‘سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ کے مطابق گزشتہ 6 روز میں حلب میں 148 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ حلب پر شام کے صدر بشار الاسد کے مخالف باغی گروہ کا قبضہ ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر سٹافن ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ 2 روز کے دوران ہر 25 منٹ میں کوئی عام شامی شہری ہلاک ہوا ہے جبکہ ہر 13 منٹ بعد کسی عام شہری کے زخمی ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔خیال رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت میں 2011 میں خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، جس کے بعد سے گزشتہ 5 سال میں 2 لاکھ 70 ہزار افراد اس جنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔شام میں امریکا اور اتحادیوں کے علاوہ روس اور شام کے جہاز بھی فضائی حملے کررہے ہیں، لہذا یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بمباری کس ملک کے طیاروں نے کی۔
الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فضائی کارروائی شامی فوج کے طیاروں نے کی۔یاد رہے کہ 2 ماہ قبل فروری میں صوبہ ادلب میں روسی طیاروں کی فضائی کارروائی میں ڈاکٹرز ود آٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی معاونت سے چلنے والے ہسپتال پر بمباری میں ایک بچے سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ جون 2014 میں شام اور عراق کے ایک بڑے رقبے پر شدت پسند تنظیم داعش نے قبضہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے ابوبکر البغدادی کو اپنا خلفیہ مقرر کیا تھا، داعش کے خلاف شام اور روسی اتحاد کے علاوہ امریکا اور اس کے حامی ممالک فضائی کارروائی کر رہے ہیں، دوسری جانب داعش مخالف القاعدہ کی حامی النصرہ فرنٹ سمیت مختلف چھوٹے گروہ بھی شام کے دیگر علاقوں پر قابض ہیں۔شام میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے مذاکراتی عمل بھی شروع کیا گیا، مذاکراتی عمل کے دوران فروری میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس جنگ بندی کا اطلاق داعش اور القاعدہ پر نہیں کیا گیا۔