|

وقتِ اشاعت :   April 29 – 2016

کوئٹہ: جامعہ بلوچستان کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے زیر اہتمام عالمی یوم کتب کی مناسبت سے ایک آگائی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال تھے۔ جبکہ اعزازی مہمان خاص جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاویداقبال تھے۔ جس میں صوبے کے نامور ادیب، دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری، عابد شاہ عابد، منیر احمد بادینی، سرور جاوید، وحید ظہیر، ڈاکٹر رحمت اللہ بلوچ، ڈاکٹر مننزہ جبین، رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی، ڈین فیکلٹیز، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ عالمی یوم کتب کے حوالے سے آگائی واک کا آغاز وائس چانسلر سیکریٹریٹ سے ہوا جو سائنس فیکلٹی سے ہوتے ہوئے آرٹس فیکلٹی پر اختتام پزیر ہوا۔ جس کی قیادت صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال، وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کی۔ بعدازاں جامعہ کے آڈیٹوریم میں عالمی یوم کتب کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ عالمی یوم کتب بڑی اہمیت کا حامل ہے جو پوری دنیا میں منائی جاتی ہے۔ کیونکہ ان ممالک، اقوام اور معاشروں نے ترقی کے مناظر طے کئے جنہوں نے کتابوں سے اپنا رشتہ قائم رکھا اور کتابوں کی بدولت آج وہ ترقی یافتہ ممالک اور معاشرہ کہلاتے ہیں۔ کیونکہ بنیادی طور پر پڑھنا آسان کام نہیں بلکہ بہت مشکل ہے۔ انسانی زہہن کو بنانے کے لئے اس کی یادداشت کی آب کاری کرنی پڑھتی ہے اور بچے کو آغاز سے ہی ایسے ماحول مہیا کی جائے تاکہ وہ پڑھنے کی جانب راغب ہو۔ آج ہمارے معاشرے میں طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ ماضی میں طالبات کو پڑھانا اور اسکول کھولنے کو گناہ تصور کیا جاتا تھا۔ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں ہماری طالبات کی کثیر تعداد تعلیم حاصل کرنے سمیت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تعلیمی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔ اور اب ہم آگے بڑھ رہے ہیں اوربہتری کی جانب گامزن ہیں۔ صوبائی حکومت کی ترجیات میں تعلیم سرفہرست ہے اور سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اسکول ٹیچرز کے لئے تربیتی پروگرامز ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ ان کے تعلیمی انسداد میں اضافہ کیا جا سکے۔ اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کے لئے این ٹی ایس اور میرٹ کی تحت اساتذہ تعینات کئے جائیں گے اور ایجوکیشن میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں پڑھنا ، پڑھانا اور آگے بڑھنا ہے۔ کیونکہ صوبے میں سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنیکل اداروں کو ترجیعی بنیادوں پر ترقی دینی ہوگی۔