|

وقتِ اشاعت :   13 hours پہلے

بھاگ: بلوچستان کے عوام کو ان کے ساحل وسائل سے محروم رکھنے کے لیئے مصنوعی قیادت مسلط کیا گیا، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے پوری زندگی خلق خدا سے محبت کی نیشنل پارٹی ان کو طویل سیاسی جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے

، بلوچستان کے ممتاز سیاسی رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی برسی کے موقع پر نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بھاگ میں بہت بڑا جلسہ عام منعقد ہوا جلسہ سے نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ، مرکزی سینیئر نائب صدر میر شاوس بزنجو، صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ، چیئرمین بی ایس او پجار بوہیر صالح بلوچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی بھاگ مفتی کفایت اللہ، ارباب قادر بخش ایری، یاسمین لہڑی، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ٹکری میران بلوچ، ریحانہ بلوچ، عبدالصمد رند، عبید لاشاری، ڈاکٹر رمضان ہزارہ، تاج مری، رحیم بخش جعفری، عبدالرسول بلوچ، وڈیرہ بشیر خان چھلگری، میر اسماعیل خان چھلگری، چیف عبدالغنی بلوچ، وفامراد بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا

اسلم بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ پوری زندگی بلوچستان اور اس کے عوام سے محبت کی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس جہد مسلسل کو آگے بڑھایا ان کی جدوجہد نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان آج تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے بلوچستان کے وسائل کو اسلام آباد دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے اور اس لوٹ مار کی خاطر انہوں نے بلوچستان کے عوام پر جنگی منافع خوروں اور اجرتی محب وطنوں کی شکل میں مصنوعی قیادت مسلط کی جس کی وجہ سے آج بلوچستان بدترین عدم استحکام کا شکار ہے ریاست کو چاہئے ہوش کا ناخن لیتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ تصور کرتے ہوئے بات چیت سے مسائل کو حل کرئے، میر شاوس بزنجو نے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور واضع کیا کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے لوگوں کو شعور و آگہی دی

انہوُں نے بھاگ سمیت اس ریجن کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے نظریاتی شعوری اور فکری سیاست سے وابستہ ہوکر خطہ سے لٹیروں اور کرپٹ عناصر کا قلع قمع کریں، چنگیز حئی بلوچ نے جم غفیر کی شکل میں بہت بڑا اجتماع منعقد کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کے نظریاتی فکری اور شعوری سیاست کا فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکن رہتی دنیا تک زندہ رہتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ عوام سے تھا اور عوام کا تھا انہوں نے اپنے خاندان اور بچوں سے ذیادہ وقت بلوچستان اور اس کے سیاست کو دی وہ ایک باکردار سیاسی رہنما تھے، چنگیز حئی بلوچ نے عوام سے کہا کہ اکیسویں صدی میں آج بھی بھاگ میں گدھا گھوڑا اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں کیا یہ ہمارا مقدر ہے کہ ہم نسل درنسل بھوک افلاس اور جہالت کی زندگی گزاریں ہمیں اپنا سیاسی نقطہ نظر بدلنا چاہیے منظم ہوکر ایک باشعور اور با کر دار قیادت سامنے لاکر اس بے بسی کو ختم کریں، مقررین نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلہ کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے بلوچستان میں قیام امن اور کشت وخون کے ماحول سے بچنے کے لیئے بلوچستان کے بنیادی مسائل پر سنجیدہ بات چیت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے، بارڈر ٹریڈ کے فروغ کے لیئے اقدامات کیئے جاہیں جنگی منافع خوروں کی بدولت سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے کے بجائے حقیقی سیاسی نمائندوں کو حق نمائندگی دی جائے اور بلوچستان میں معدنیات کی بے دریغ لوٹ مار سے اجتناب کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *