گوادر: وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ گواد رپورت جلد ہی علاقے میں سمندری تجارتی سرگرمیوں میں گیم چینجر کی حیثیت حاصل کرلے گی۔ا پنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے باہر گہرے پانی کی بندرگاہ کی حیثیت سے مغربی چین افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے مختصر رابطے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز یہاں ملک کے پہلے فری زون گوادر پورٹ ایسٹ بے ایکسپریس وے اور گوادر پورت بزنس کمپلیکس پراجیکٹس کی بہتری کے حوالے سے جاری کام کے معائنہ کے دوران کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ نیدر لینڈ کے ایورٹ جیکب شٹ بشپ آزاد مارشل اور ( باڈاٹ) پاکستان کے ارکان بھی موجود تھے۔ معائنہ کے دوران وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمالدینی نے بتایا کہ یہ منصوبے جوسی پیک اور پی ایس ڈی پی کے تحت زیر تکمیل ہیں میں سی پیک /ارلی ہارویسٹ پراجیکٹ کے تحت14016 ملین روپے کی لاگت سے گوادر پورٹ سے منسلک 18.9 کلو میٹر طویل ایسٹ بے ایکسریس وے 2018تک مکمل ہوجائے گی چھ لین پر مشتمل یہ ایکسپریس وے گوادر پورٹ لائے اور لے جائے جانے والے کارگو کیلئے ڈائریکٹ روٹ کے ذریعے رسائی فراہم کرے گی جس سے شہریوں اور گاڑیوں کو آمدورفت میں سہولت حاصل ہوگی اس کے علاوہ ایکسپریس وے کے متوازی دو طرفہ ریلوے لنک بھی تعمیر کیا جارہا ہے وفاقی وزیر کو مزید بتایاگیا کہ دی کنسیشن ہولڈر نامی چینی کمپنی موجودہ گوادر پورٹ سے منسلک فری زون میں60ایکڑ رقبے پر ابتدائی طور پر ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ کموڈٹی ڈسپلے اینڈ ایگزیبیشن سینٹر تعمیر کررہی ہے جس سے گوادر فری زون 2281ایکڑ رقبے پرمشتمل ہوگا جس کیلئے 6ارب کی لاگت سے اراضی حاصل کی جارہی ہے اس کے علاوہ پی ایس ڈی پی کے تحت2.18 ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر گوادر پورٹ بزنس کمپیکس بھی2018تک مکمل کرلیا جائے گامذکورہ بزنس کمپلیکس میں بینک، شپنگ ایجنٹس کے دفاتر، کنٹینر یارڈز وےئرہاؤس کیف ٹیریا، سی مین سینٹر، ٹرکنگ اسٹینڈ اور مرمتی ایریا کی سہولیات فراہم ہوں گی قبل ازیں وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ نے اپنے وفد کے ارکان کے ہمراہ گرلز ہائی سکول شمبے اسماعیل، جی پی اے ہاؤسنگ کمپلیکس اور نیو گوادر بس ٹرمینل سائٹ کے معائنہ کے علاوہ اباڈاٹ کے فنڈز اور انتظام کے تحت سکول کی تعمیر کیلئے مجوزہ سائٹ کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر طفیل احمد بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفییسر خان محمد نے انہیں مذکورہ تنظیم کیلئے عطیہ کردہ قطعہ اراضی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔