منصوبے کے اہم نکات • منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوگا۔ • منصوبے پر 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔ • منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان، چین کے درمیان ٹیلی مواصلات کا متبادل روٹ دستیاب ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ موجود دور کی جنگ کا ہتھیار ’علم‘ ہے، ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ اگلے 50 سال میں دنیا کہاں کھڑی ہوگی، ہمیں دنیا کے ساتھ کھڑے رہنے کی تیاری کرنی ہے، جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری اسی تیاری کا مظہر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت کو مزید دلچسپی سے کام کرنا چاہیے اور جب ترقی ہوگی تو نوجوان ملک دشمن عناصر کے فریب کا شکار نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے گلگلت بلتستان کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے لیے وفاقی حکومت 10 کروڑ روپے دے گی۔ بعد ازاں گلگت بلتستان کونسل کے نومنتخب ارکان کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے تھے کہ پاکستان میں موٹروے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اب موٹروے کی مخالفت کرنے والے سڑک پر سفر نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ راہداری منصوبہ پاکستان نہیں پورے خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے، سڑکوں کا سلسلہ پاکستان کو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ملائے گا، سڑک نہیں بنے گی تو کس طرح ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے گی؟ جبکہ اگر سڑک نہ ہوتی تو آج فائبر آپٹک نہیں بچھ سکتی تھی۔ قبل ازیں وزیر اعظم نواز شریف نے ’گلگت بلتستان سی پیک پٹرولنگ پولیس‘ کا بھی افتتاح کیا۔ 300 اہلکاروں پر مشتمل پٹرولنگ پولیس گلگت بلتستان میں راہداری منصوبے کے 439 کلو میٹر طویل حصے پر ٹریفک کی محفوظ اور بلاتعطل روانی یقینی بنانے میں مدد دے گی، جبکہ چین نے پٹرولنگ پولیس کے لیے 25 گاڑیوں کا تحفہ بھی دیا ہے۔
پاک ۔ چین آپٹیکل فائبر منصوبے کا سنگ بنیاد
![]()
وقتِ اشاعت : May 19 – 2016