1992 میں ایک پریس کانفرنس میں اس وقت کے پاکستان کے وفاقی وزیر اعجاز الحق، افغان وزیر دفاع احمد شاہ مسعود، گلبدین حکمت یار اور سعودی عرب کے نمائندے عبداللہ نائف موجود ہیں — فوٹو : اے ایف پی
کابل میں معاہدے پر دستخط سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور امید ہے کہ اس معاہدے سے حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ ہوجائے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب افغان امن عمل کے لیے پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کار گروپ کا اسلام آباد میں پانچواں اجلاس جاری تھا۔
گلبدین حکمت یارسابق وزیراعظم ہیں—فوٹو:اےایف پی
2003 میں امریکی محکمہ خارجہ نے گلبدین حکمت یار کا نام، القاعدہ اور طالبان کی مدد کا الزام لگاتے ہوئے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔ امریکا نے افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا، افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اور افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی چاہتا ہے۔