کابل: آذربائیجان کی سلک وے ایئرلائنز کا ایک طیارہ افغانستان میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوگئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ افغان صوبہ ہلمند میں واقع ایک ملٹری ایئرپورٹ کیمپ ڈیوئر سے ٹیک آف کرتے ہی مذکورہ طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔
ترجمان کے مطابق طیارے میں 9 افراد سوار تھے، جن میں سے 7 ہلاک ہوگئے جبکہ 2 کو طبی امداد کے لیے قندھار ایئرفیلڈ منتقل کردیا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مسافروں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مشرقی یورپ سے تعلق رکھتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ حادثے میں کسی ‘فوجی کارروائی’ کا عمل دخل نہیں ہے، بلکہ ٹیک آف کرتے ہوئے طیارے کا ایک پَر رن وے سے ٹکرانے کے باعث حادثہ پیش آیا۔
اے پی کے مطابق افغانستان میں سلک وے ایئرلائنز سے اس حادثے کے حوالے سے رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔
امریکا کا بی 52 بمبار طیارہ گر کر تباہ
دوسری جانب امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کا بی 52 بمبار طیارہ بحر الکاہل میں واقع گوام جزیرے میں گر کر تباہ ہوگیا، تاہم عملے کے 7 ارکان طیارہ حادثے میں محفوظ رہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق حادثہ انڈرسین ایئرفورس بیس پر صبح ساڑھے 8 بجے کے قریب پیش آیا، جب ٹیک آف کرتے ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔
امریکی فضائیہ کے مطابق بی 52 بمبار طیارہ شمالی ڈیکوٹا سے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام میں تعینات کیا گیا تھا اور یہ اس خطے میں امریکی فوج کے مستقل قیام کا حصہ تھا۔
مزید کہا گیا کہ عملے کے ارکان معمول کے تربیتی مشن پر تھے کہ حادثہ پیش آیا۔پیسیفک ایئر فورس کے ترجمان کیپٹن رے جیوفرے کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ ایئرفورس ہائیڈرالک تیل اور ایندھن کی ممکنہ آلودگی کو کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ جس وقت طیارے نے ٹیک آف کیا تھا اس میں فیول کی مکمل مقدار موجود تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ طیارے کے ہتھیاروں سے جزیرے کے رہائشیوں کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ بحر الکاہل میں امریکی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے 2014 سے گوام میں فضائیہ کے بی ون، بی 2 اوربی 52 بمبار طیارے پرواز کرتے رہتے ہیں۔
اس سے قبل 2008 میں بھی گوام میں امریکی فضائیہ کا ایک بی 52 طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کے 6 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔