|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2025

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) ایڈوائزری کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 2016 سے 2025 تک کے دوران وصول شدہ محاصل کی تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں صوبے کے مالی وسائل بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو مالی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے اپنے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس آن سروسز کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متعدد نئے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔

اجلاس میں BRA کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں بہتری کے لیے جدید تربیتی پروگرامز متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریونیو میں اضافہ کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ “بلوچستان کی ترقی مالی خود انحصاری کے بغیر ممکن نہیں،” وزیر اعلیٰ نے کہا۔ “ہمیں وفاق پر انحصار کم کر کے صوبائی معیشت کو مستحکم کرنا ہوگا۔”

وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور ایڈوائزری کونسل کے اجلاسوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ ادارے کی اہداف کے مطابق کارکردگی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید برآں، اجلاس میں اتھارٹی کی فعالیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ BRA جیسے اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد صوبائی وسائل میں اضافہ ہے، اور اس ادارے کو اپنے وسائل میں خود اضافہ کرنا ہوگا۔