|

وقتِ اشاعت :   September 26 – 2025

کراچی:  پاکستان میں امریکی مشن کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے ۳۲ سے ۶۲ ستمبر تک کراچی کا دورہ کیا جس کا مقصد امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔

ناظم الامور بیکر نے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور گورنر کامران ٹیسوری سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکا کی حالیہ امداد کے مثبت نتائج بھی زیرِ بحث آئے۔ ناظم المور بیکر نے کراچی کے کاروباری رہنماؤں بشمول کے ایف سی، لبرٹی گروپ، جیریز گروپ اور ریکو ڈک مائننگ پراجیکٹ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، صنعت، ٹیکسٹائل، پیکجنگ اور بندرگاہ کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جا سکے۔ نیٹلی بیکر نے امریکی ٹیکسٹائل کمپنیوں کے نمائندوں سے پاکستان کی برآمدی صنعتوں میں امریکی اختراعات مثلاً آر ایف آئی ڈی اور اسمارٹ لیبلز کے مثبت اثرات پرگفتگو کی۔ انہوں نے لبرٹی گروپ اور ریکو ڈک کے نئے کنٹری منیجر سے بھی ملاقات کی،

جس میں پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں دوطرفہ تعاون پر بات ہوئی۔ بعد ازاں جیریز گروپ میں امریکی فرنچائزز کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب مواقع پر گفتگو کی۔ اپنے دورے کے دوران ناظم الامور بیکر نے پاکستان نیوی کی قیادت کے ساتھ مل کر امریکی نیوی کے بحری جہاز آرلی برگ کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس وین ای۔

مائر (ڈی ڈی جی ۸۰۱) کا کراچی بندرگاہ آمد پر استقبال کیا۔ اس دورے نے امریکا اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بحری سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ وابستگی کو اجاگر کیا۔ ناظم الامور بیکر نے کراچی میں کینٹکی فرائیڈ چکن (کے ایف سی) کے تعاون سے قائم ڈیف ریچ اسکول کا بھی دورہ کیا تاکہ کے ایف سی کے سماجی خدمت کے عزم کو اجاگر کیا جا سکے۔ ۴۱۰۲ء سے کے ایف سی پاکستان نے سماعت سے محروم افراد کے لیے تعلیم، ہنراور روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ فی الوقت نو خصوصی مراکز فعال ہیں، اور ڈھائی سو سے زائد سماعت سے محروم افراد مختلف کے ایف سی آؤٹ لیٹس پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ تعاون اس بات کا مظہر ہے کہ امریکی کاروباری ادارے پاکستان میں نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ناظم الامور بیکر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے جو کہ مشترکہ خوشحالی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، تجارت، سرمایہ کاری اور اختراع کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے اورہم باہمی تعاون سے اپنی شراکت داری کے نئے باب کو ترقی اورنئے امکانات سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ ناظم الامور بیکر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کا مضبوط? اقتصادی تعاون عام پاکستانیوں کے لیے فائدے مند ثابت ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک اسّی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جو ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو نوکریاں دے رہی ہیں اور دس لاکھ سے زائد افراد کو بالواسطہ فوائد پہنچا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے ہم پاکستانی کاروباری اداروں کو ان کی مکمل استعداد تک لے جا سکتے ہیں، امریکی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔ امریکی ناظم المور نیٹلی بیکر کی کراچی میں مصروفیات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ امریکا تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں میں عملی تعاون کے ذریعے امریکہ–پاکستان تعلقات کومزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو کہ دونوں ممالک کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں