کوئٹہ : غلام فاروق نے کہاہے کہ میرے لاپتہ والد علی اصغر ایک سیاسی کارکن تھے جنہیں لاپتہ کئے24 گزر گئے لیکن تا حال ان کی رہائی ممکن نہیں ہوسکی ۔
بحفاظت بازیابی کیلئے ہر دور کے برسر اقتدار حکومتوں کے دروازے پر امن اور آئینی دائرہ کار میں رہ کر کھٹکھٹائے لیکن بازیابی ممکن نہیں ہوسکی۔
ہم حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علی اصغر کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اگر اس دنیا میں نہیں تو ہمیں بتایا جائے تاکہ ہمیشہ کے کرب سے نجات مل سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ، حوران بلوچ سمیت دیگر کے ہمراہ عدالت روڈ پر قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ غلام فاروق نے کہا ہے کہ میرے والد علی اصغر بنگلزئی ایک بلوچ سیاسی کارکن تھے جنہیں پہلی مرتبہ جون 2000ء کو اداروں کے اہلکاروں نے شاہوانی روڈ کوئٹہ سے لاپتہ کردیا اور 14 دن کے بعد رہا کردیا
دوسری مرتبہ 18 اکتوبر 2001ء کو محمد اقبال کے ساتھ ڈگری کالج کوئٹہ کے سامنے سے اداروں کے اہلکاروں نے جبری لاپتہ کردیا اور محمد اقبال کو 24 دن بعد رہا کردیا اور میرے والد تا حال ان کے تحویل میں ہے ہم نے 24 سالوں میں والد کی بازیابی کے لئے عدلیہ اور کمشنر سمیت مختلف برسر اقتدار حکومتوں کے دروازوں پر دستک دینے کے ساتھ ساتھ پر امن اور آئینی طریقے سے جدوجہد بھی کرتے آرہے ہیں لیکن ہمیں اس دوران کسی بھی سطح پر ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے خاندان شدید ذہنی دبائو اور نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ بہن بھائیوں کی تعلیم ادھوری اور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
لوگوں کو ماورائے قانون جبری لاپتہ کرکے ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم نہ کرکے اذیت میں مبتلا کرنا ملکی و بین الاقوامی قوانین ا ور شہریوں کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
ہر دور میں جبری گمشدگی کے مسئلہ کو حل کرنے اوراسمبلیوں میں آرڈیننس پاس کرنے کے باوجود دو دہائیاں گزگئے لیکن گمشدگیوں کا سدباب نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ کسی فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانی معاشرہ، انصاف کے نظام اور انسانی حقوق کے اداروں کے وقار کا ہے ہم حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علی اصغر بنگلزئی کی بازیابی یقینی بنائی جائے اگر اس دنیا میں نہیں ہے تو ہمیں بتایا جائے ۔