کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حالیہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کے اندرونی فیصلوں پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
انہوں نے لکھا:
“انہوں نے صرف ایک شخص کی سیاست ختم کرنے کے لیے اپنی پوری سیاست اور جدوجہد راکھ بنا دی۔ اس وقت عدلیہ اور آئین کا ہونا ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔ اس دھوکے کو فوراً ختم کریں ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی کہ نام نہاد جمہوریوں نے ایک شخص کے خوف میں کیا کچھ کر ڈالا۔ آئیں سب مل کر پاکستان کے آئین کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھیں۔ اللہ آپ سب کے ساتھ ہو۔”
ایک اور ٹوئٹ میں سردار مینگل نے طنزیہ انداز میں کہا:
“ہیڈ ماسٹر نے آج سینیٹ میں فرمانبردار بچوں کو اُٹھک بیٹھک کروانے کی ہدایت دی! بھائی، آئین کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔”
سردار مینگل کے یہ بیانات حکومت اور پارلیمنٹ میں حالیہ آئینی ترامیم کے تناظر میں آئے ہیں، جن میں بعض ارکانِ سینیٹ، بشمول نسیمہ احسان اور قاسم رونجو، نے 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی۔ بی این پی کی قیادت نے اس اقدام کو “پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے دونوں کی بنیادی رکنیت ختم کر دی۔