|

وقتِ اشاعت :   November 14 – 2025

اپوزیشن کے شور شرابے میں بلوچستان اسمبلی میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کا بل منظور کرلیا گیا۔

بل کی منظوری پر اپوزیشن نے احتجاج کیا، اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ  اور بل نا منظور کے نعرے لگائے۔

اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری نے کہا کہ ہم بل کو نہیں مانتے، اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔

صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

 بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 17 نومبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

 

کوئٹہ:وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سازی کرنا حکومت کا آئینی حق ہے اور صوبائی حکومت نے آج وہی حق استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیش کردہ بل پر اسمبلی کی اکثریت نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بل کے حق میں ووٹ دیا، جو جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے وزیر اعلی نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت نہ صرف اس حق کا احترام کرتی ہے

 

بلکہ بات چیت اور مکالمے کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے تاہم قانون سازی عوام کے بہترین مفاد میں کی جاتی ہے کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق بل کے حوالے سے وزیر اعلی نے وضاحت کی کہ یہ بل گزشتہ چھ ماہ سے بلوچستان اسمبلی کی متعلقہ کمیٹیوں میں موجود تھا اور اس پر تمام تقاضوں کے مطابق پیش رفت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کابینہ اس بل کی منظوری کافی عرصہ قبل دے چکی تھی

 

اور اسے آج اسمبلی میں قواعد کے مطابق منظور کرایا گیا وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمیشہ اتفاقِ رائے سے قانون سازی کو ترجیح دی ہے اور کوشش رہی ہے کہ ہر بل وسیع مشاورت اور شفاف طریقہ کار کے بعد منظور ہو وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے حکومت پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔