نوکنڈی:بیرک مائننگ کارپوریشن کے زیرِ انتظام ریکودک مائننگ کمپنی (RDMC) نے ضلع چاغی کے سپلائرز اور وینڈرز کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے لیے مقامی سپلائر آؤٹ ریچ تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ اقدام آر ڈی ایم سی کے اس مستقل عزم کا حصہ ہے دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ اور سونا ذخائر میں سے ایک ریکودک کے لیے ایک مضبوط، جامع اور مسابقتی مقامی سپلائی چین قائم کی جائے۔
آر ڈی ایم سی کی سپلائی چین ٹیم کی قیادت میں منعقدہ اس سیشن میں ضلع بھر کی 70 سے زائد مقامی کمپنیوں اور کاروباری نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء کو آر ڈی ایم سی کے پری کوالیفکیشن معیارات، خریداری کے طریقہ کار اور کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے کے عملی تقاضوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔اس فورم نے مقامی وینڈرز کو اپنے سوالات پوچھنے، خدشات اجاگر کرنے اور آر ڈی ایم سی کے ساتھ مستقبل کی شراکت داری کے امکانات پر گفتگو کا موقع بھی فراہم کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مینیجر ریکودک پروجیکٹ رائن مچل نے کہ:”آر ڈی ایم سی میں ہمارا عزم ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقامی کاروبارکو اپنی سپلائی چین میں شامل کر کے جامع معاشی ترقی کو فروغ دیں۔ جس بھی سطح پر مقامی سپلائرز ہمارے معیارات اور تجارتی ضروریات پر پورا اتریں ہم اشیا اور خدمات کی خریداری مقامی سطح پر کرنے کو ترجیح دیں گے۔ ہم مقامی کاروبار کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیت اور مہارت سازی میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ مزید خریداری چاغی اور بلوچستان سے ہی ممکن ہو سکے۔”
آر ڈی ایم سی کی جانب سے مقامی خریداری کو فروغ دینے کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے، عبدالحفیظ بلوچ، پرچیزنگ اسپیشلسٹ آر ڈی ایم سی، نے کہا:
“یہ تقریب مقامی اقتصادی ترقی کے لیے ہمارے جاری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ 2025 کے دوران اب تک آر ڈی ایم سی نے ضلع چاغی کے سپلائرز کو2040ملین روپے (USD 7.2M) مالیت کے کنٹریکٹس اور بلوچستان بھر کے سپلائرز کو3796.5 ملین روپے(USD 13.4M) مالیت کے کنٹریکٹس دیے ہیں اور جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے، ہم ان اعداد و شمار میں مزید اضافہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم اُن قابل مقامی وینڈرز اور سپلائرز کے ساتھ تعاون پر فوکس رکھے ہوئے ہیں جو ہمارے تکنیکی، حفاظتی، اور اخلاقی معیار پر پورا اترتے ہیں۔”
تقریب کے دوران مقامی سپلائرز کو ریکودک منصوبے کے مجموعی دائرہ کار، آپریشنل اصول، خریداری کی حکمتِ عملی، ٹیکس ڈھانچہ، کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام، ملازمت سے متعلق پالیسیوں، اور تعمیراتی و آپریشنل مراحل میں شراکت داری کے امکانات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
آر ڈی ایم سی، جو حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کے تحت کام کر رہی ہے، ریکودک کو ذمہ دارانہ کان کنی اور جامع معاشی ترقی کی ایک مثال بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ یہ منصوبہ آگے بڑھنے کے ساتھ خطے میں روزگار کے مواقع، مہارت سازی، اور مقامی خریداری میں اضافے کے ذریعے مثبت اور تبدیلی لانے والے معاشی اثرات پیدا کرے گا۔