کوئٹہ :انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد طاہر نے کہا ہے کہ سالِ نو میں صوبے کے تمام اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر بالخصوص خطرناک گینگز ، عادی مجرمان اور منظم گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جائے گا۔ صوبہ بھر میں منظم جرائم کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیںگے اور زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت سماج دشمن عناصر کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پٹرولنگ ٹیمیں اپنے گشت کو مزید موثر بنائیںگی اور سٹریٹ کرائم سمیت ڈکیتی ، رابری ، قتل اور اغواء جیسے سنگین جرائم میں ملوث عادی و پیشہ ور مجرمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس میںسال2025 کی کار کردگی کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیئے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر ز بلوچستان حسن اسد علوی اور اے آئی جی آپریشنز نوید عالم بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ تمام اضلاع کے سپروائزری افسران کو منشیات فروشی، ناجائز اسلحے اور صنفی جرائم کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کریں اور بڑے شہروں میں گاڑی و موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث منظم گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے بعد مقدمات کے تفتیشی مراحل کو جلد از جلد مکمل کرتے ہوئے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیںگے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سال نو کے آغاز کے حوالے سے اقلیتی برادری کے تقریبات کی سیکورٹی کے علاوہ ہوائی فائرنگ کی روک تھا م کے لئے تمام ایس ایس پیز ، ایس پیز اور تھانوں کی سطح پر واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ہوائی فائرنگ پر پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہوائی فائرنگ کی زد میں کوئی قیمتی جان ضائع نہ ہو۔آئی جی پولیس بلوچستان نے بتایا کہ رواں سال کے دوران مختلف واقعات میںجن میں اسلحہ کے 1438کیسز رجسٹرڈ ہوئے 1447ملزمان گرفتار ہوئے جس میں 1483 پسٹل118,کلاشنکوف ،رائفل شارٹ گن 187،را?نڈز 39786 ،دھماکہ خیز مواد21.98کلوگرام اورمختلف اقسام کے1175 میگزینس پکڑے گئے ہیں۔منشیات کے حوالے سے 1507کیسز رجسٹر ڈ ہوئے اور 1589ملزمان گرفتار ہوئے ہیں منشیات میں چرس 3903.991کلو گرام ,آفیوم میں 1781.088کلوگرام ، ہیرون 20.55کلو گرام ,آئس شیشہ 252.448کلوگرام ، کرسٹال 2.391کلوگرام ,شیشہ570کلوگرام ، 4564شراب کے مختلف اقسام کی بوتلیںاور 3904بیر کین پکڑی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں سال رواں میں پولیس نے بلوچستان کے مختلف اضلاع سے 111 سے زائد چوری اور چھینی گئی گاڑیاں اور 880موٹر سائیکل برآمد کیے۔۔725مطلوب ملزمان ، 4799اشتہاری ملزمان ، 10عدالت سے سزا یافتہ ، اغواء برائے تاوان 255ملزمان اور 14344جرائم پیشہ افراداور جرائم کی مختلف وارداتوں میں ملوث 103خطرناک گینگز گرفتار کیے گئیں۔
جبکہ پولیس مقابلے میں 74ملزمان مارے گئے اور پیش آور ملزمان سے چوری اور چینی گئی اشیاء جس میں ،69,722,555نقد رقم ، 286عدد موبائل، 35تولہ سونا برآمد کیا گیا ہیں اسی طرح121477لیٹر پیٹرول اور 234766لیٹر ڈیزل برآمد کر لے گئے جبکہ 1110پیٹرول پمپ سیل کر دیے گئے اور35438گاڑیوں سے کالے شیشوں کے خلا ف کاروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے یکم جنوری سے دسمبر تک 249206 گاڑیوں کو چالان کرکے ان سے 16 کروڑ 86 لاکھ 45ہزار 176روپے جرمانہ وصول کیا۔موٹر وہیکل ایکٹ 550 کے تحت 1868 گاڑیاں اور 21462موٹر سائیکلیںقبضے میں لے لیے گئے۔ دہشت گردی کے 863مختلف علاقوں میں واقعات ہوئے ہیں جس میں 325سنگین واقعات اور 538معمولی واقعات ہوئے ہیں ان واقعات میں 403افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ 796زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں پولیس نے 81دہشت گرد وں کو ماردیے گئے ہیں۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ میرٹ اور کسی دبا? کے بغیر جاری ہے۔
ملک میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق رپورٹنگ مدت کے دوران دہشت گردی کے 1052 واقعات پیش آئے، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان واقعات میں 396 بڑے اور 656 چھوٹے حملے شامل ہیں، جن کے نتیجے میں 537 افراد شہید اور 1056 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 89 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الحرام کے خلاف 2702 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ حکومت بلوچستان کے مطابق پولیس اور اے ٹی ایف کی استعداد کار بڑھانے، تربیت، انفراسٹرکچر، فلاحی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔پولیس نے مقامی آبادی سے روابط مضبوط کرتے ہوئے علاقوں کی مضبوط دفاعی پوزیشننگ اور سیکیورٹی انتظامات بہتر کیے ہیں۔ حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔حکومتِ بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس اور اینٹی ٹیررازم فورس (اے ٹی ایف) کی استعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے اے ٹی ایف، بلٹ پروف گاڑیاں، آرمڈ پرسنل کیریئرز اور بھاری ہتھیار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اہلکاروں کی تربیت، فلاح و بہبود اور احتساب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اے ٹی ایف کی نفری 1,453 سے بڑھا کر 3,000 کی جا رہی ہے اور اہلکاروں کے الاؤنسز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان بھر میں 81 پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اے ٹی ایف ہیڈکوارٹر کی تعمیر مارچ 2025 تک مکمل کی جائے گی۔پولیس نے حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ سال 2025 کے دوران ہائی پروفائل حملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے بتایا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔بلوچستان حکومت نے پولیس اور اینٹی ٹیررازم فورس (ATF) کی استعداد کار میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق، اہلکاروں کی فلاح و بہبود، جدید تربیت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس اور ATF کے اہلکاروں کی بہادری اور موثر جوابی کارروائی کو انعامات اور اعزازات سے سراہا جا رہا ہے، جبکہ غفلت یا لاپرواہی کی صورت میں سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں پولیس نے بھگ، کوٹرا، تاسپ، ناگ اور مشکے اسٹیشنز پر دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا کر عوام کو محفوظ بنایا۔سال 2025 کے دوران روڈ بلاکس میں کمی کے باعث نقل و حرکت میں بہتری آئی اور ہائی پروفائل حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ پولیس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی اور تفتیشی شعبے قائم کیے گئے ہیں، جن میں ڈی آئی جی آئی اے بی برانچ، اضافی آپریشنز برانچ، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن اور سی بی ریجنل دفاتر شامل ہیں۔اور ATF کی نفری 1,453 سے بڑھا کر 3,000 کرنے کا عمل جاری ہے، اور فورس کے الا?نس میں اضافہ کے بعد اہلکاروں کے مورال اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔بلوچستان پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بڑے اقدامات، 2 ارب روپے سے انفراسٹرکچر کی بہتری و بلوچستان بھر میں پولیس کی سیکیورٹی اور آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ صوبے کی 81 پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ATF ہیڈکوارٹر کی تعمیر مارچ 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح، 30 D3C عمارتوں کی تعمیر پر 1.1 ارب روپے لاگت آ رہی ہے
۔پولیس کی ڈیجیٹل استعداد بڑھانے کے لیے PITB کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں اور پولیس میں آئی ٹی کیڈر کے قیام پر کام جاری ہے۔ موجودہ سیف سٹی سسٹمز پولیس کے حوالے کیے جا رہے ہیں جبکہ 8 نئے سیف سٹی منصوبے بھی زیر عمل ہیں۔انتظامی اصلاحات کے تحت پولیس کے امور کو بہتر بنانے کے لیے 12 ایس او پیز نافذ کیے گئے ہیں، جن میں بھرتی، سیکیورٹی، چھاپے اور اشتہاری ملزمان سے متعلقہ امور شامل ہیں۔ بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنے کے لیے بھی جامع منصوبہ اور ایس او پیز جاری کیے گئے، اور عملے کی تعیناتی میں 95 فیصد تک عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے۔پولیس اہلکاروں کی تربیت کے لیے دو ہفتے کے ریفریشر کورسز اور تین ماہ کے تربیتی پروگرامز شروع کیے گئے ہیں، جس میں ابتدائی طور پر 1,000 اہلکار شامل ہیں، جو بعد میں 3,000 تک بڑھائے جائیں گے۔ خضدار میں ریجنل ٹریننگ سینٹر قائم کیا گیا ہے، جبکہ فوج کے ذریعے 420 نئے اہلکاروں کی بھرتی فروری 2026 تک مکمل کی جائے گی۔
اسی طرح پولیس ٹریننگ کالج میں لیویز کے 700اورخضدار ٹریننگ سینٹر میں 300اہلکارو ں کو تربیت دی جاری ہیں۔فلاحی اقدامات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ شہداء کے ورثا کے لیے امداد 2 لاکھ روپے مقرر، شدید زخمی اہلکاروں کے لیے 1 لاکھ روپے اور شہداء و مرحوم اہلکاروں کی بیٹیوں کے لیے شادی گرانٹ 2 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی وظائف، صحت سہولیات اور کیڈٹ کالجز میں 150 طلبہ کی تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور امن و امان قائم رکھتے ہوئے سماج دشمن عناصر کے قلع قمع کا عمل تیز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تما م اضلاع اور ریجنل آفیسران کی سطح پر کھلی کچری کا انعقاد کا سلسلہ جاری ہے تاکہ پولیس کا اعتماد بھی عام لوگوں میں بڑھیا جاسکے اور پولیس اہلکاروں کی فلاح وبہبود کے لیے بڑے پیمانے پر کا م جاری ہے تاکہ محکمے میں موجود کالی بھیڑیوں کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے۔