|

وقتِ اشاعت :   June 19 – 2016

ریاض : سعودی وزیر خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی حکومتی افواج اور ان کے فوجی ٹھکانوں پر جلد سے جلد حملے شروع کر ے تاکہ صدر اسد کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے یہ مطالبہ دہرایا کہ صدر اسد کو جلد سے جلد اقتدار سے بے دخل کیا جائے انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے روز اول سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ شام پر ہوائی حملے کئے جائیں نو فلائی زون اور محفوظ علاقے قائم کئے جائیں بلکہ اسد مخالف جمہوری اتحاد کو زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل دیئے جائیں تاکہ وہ ہوائی حملوں کا مقابلہ کر سکیں سعودی عرب کی خصوصی افواج امریکی اتحاد کا حصہ ہیں جو آئے دن کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب 51 امریکی سفارت کاروں نے حکومت شام اور اس کے افواج کے خلاف فضائی اور فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا جن کی حمایت امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے بھی ایک بیان میں کیا اور یہ اشارہ دیا کہ اب مستقبل قریب میں شام سے متعلق امریکی پالیسی ہو گی امریکی وزارت خارجہ ان تمام باتوں کی تصدیق کی ہے مگر ان پر کوئی تبصرہ نہیں کیاروسی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے پورے خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو جائے گی جبکہ روس کے نائب وزیر خارجہ نے اس کی بھر پور مذمت کی اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے قرار دادوں کی خلاف ورزی ہو گی اقوام متحدہ کے سفیر نے کہا ہے کہ اب تک شام کی خانہ جنگی میں 4 لاکھ افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے شام کی آبادی جنگ شروع ہونے سے پہلے صرف دو کروڑ اور 30 لاکھ تھی