|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

کوئٹہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی اور صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز سر اعظم اچکزئی اور حیات خان اچکزئی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے افغانستان میں موجود پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد ڈیورنڈ لائن کی بندش کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ان افراد میں کوئٹہ اور چمن سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات، تاجر اور مزدور طبقے کے افراد شامل ہیں، جو قانونی ویزے پر افغانستان گئے تھے، مگر ڈیورنڈ لائن کی اچانک بندش اور موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث واپس اپنے گھروں کو نہیں آ پا رہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی بندش کے باعث یہ افراد افغانستان میں پھنس کر رہ گئے ہیں،

جبکہ ان کے اہلِ خانہ، بچے اور عزیز و اقارب یہاں شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ ان خاندانوں کے افراد گزشتہ کئی دنوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں اور مسلسل ذہنی دبا اور اضطراب کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت ماہِ رمضان المبارک جاری ہے اور عیدالفطر میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں،

ایسے میں ان افراد کا اپنے خاندانوں سے دور رہنا نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک صورتحال ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام کے معاشی اور سماجی روابط دونوں جانب موجود ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ تجارت، مزدوری اور دیگر ضروری معاملات کے سلسلے میں سرحد پار سفر کرتے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن کی طویل بندش نے نہ صرف ان افراد کو مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ ان کے خاندانوں اور کاروباروں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومتِ پاکستان، متعلقہ حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کرتے ہوئے افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں، خصوصا کوئٹہ اور چمن سے تعلق رکھنے والے تاجروں، مزدوروں اور دیگر افراد کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

رہنماں نے مطالبہ کیا کہ عیدالفطر سے قبل خصوصی انتظامات کے ذریعے ڈیورنڈ لائن کو عارضی طور پر کھولا جائے تاکہ یہ افراد اپنے گھروں کو واپس آ سکیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے مقدس موقع کے پیشِ نظر حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کا فوری اور ہنگامی بنیادوں پر حل نکالا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی پریشانی، بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ہو سکے اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *