|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 36 قلات سے کامیاب امیدوار میر ضیاء اللہ لانگو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابی عمل کے دوران پیش آنے والے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالواسع ایک زیرک سیاستدان ہیں اور بلوچستان کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں، تاہم قلات میں جمعیت علماء اسلام کے ایک امیدوار کے مبینہ دہشت گردانہ اور غیر اخلاقی رویے کے باعث ان کی اپنی جماعت کے کارکنوں نے بھی لاتعلقی اختیار کی۔

میر ضیاء اللہ لانگو کے مطابق قلات کے علاقوں جوہان، گزگ اور نرمک میں مختلف قبائل آباد ہیں جہاں خواتین نے بھرپور انداز میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کے ساتھ مبینہ طور پر 150 سے زائد مسلح افراد نے پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بولا اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ انتخابی عمل کو متاثر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے بلوچ روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کیا، انہیں زبردستی پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالا اور چاروں اطراف سے پولنگ مراکز کا گھیراؤ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے درمیان اسلحہ لہرانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی کی علامت ہے۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے مزید الزام لگایا کہ مسلح جتھوں نے مقامی افراد کو دھمکیاں دیں اور خوف و ہراس کی فضا قائم کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسلحہ استعمال کرنے کی نوبت آئی تو متعلقہ عناصر نے اپنی بندوقیں کیوں استعمال نہیں کیں۔

انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا کہ گزگ، نرمک اور جوہان میں خواتین کی مبینہ بے حرمتی کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار امیدوار سمیت دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کا اسلام، بلوچ یا پشتون روایات سے کوئی تعلق نہیں اور ان کی وجہ سے علاقے میں جماعت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر وہ تمام سیاسی جماعتوں اور علماء کرام کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں وہ مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطاء اللہ اور مولانا صدیق شاہ سے انتخابات میں شکست بھی کھا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود باہمی احترام اور اخلاقی تعلق برقرار رکھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں چند ایسے عناصر شامل ہو گئے ہیں جو نہ خواتین کی عزت کا احترام کرتے ہیں اور نہ بزرگوں کا، لہٰذا ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *