کوئٹہ: پشتونخواء نیپ کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ علاقائی زبانوں کے علمی اور ادبی اداروں کو کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی بنیاد پر متنازع بنانے کے بجائے ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں کے عہدیداران کے ایک مشترکہ وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور پارٹی کے صوبائی صدر نصر اللہ خان زیرے، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی، صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز عبدالرزاق خان بڑیچ اور فیاض خان جبکہ مرکزی کمیٹی کے رکن وزیر خان سے تفصیلی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران صوبے کی علاقائی زبانوں کے فروغ، علمی و ادبی اداروں کی خودمختاری اور حکومت کے مجوزہ قانون کے حوالے سے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد میں پشتو اکیڈمی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی، جنرل سیکریٹری پروفیسر نقیب اللہ احساس، فنانس سیکریٹری عادل خان اچکزئی، بلوچی اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری عرفان جمالدینی، سابق چیئرمین ممتاز یوسف، براہوئی اکیڈمی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوئی ، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد اسلم بنگلزئی جبکہ ہزارہ اکیڈمی کے صدر احمد علی بیگ اور جنرل سیکریٹری سرور ہزارہ شامل تھے۔
وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ “بلوچستان ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹی بل 2025” کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور اس بل کے اکیڈمیوں کی خودمختاری پر ممکنہ منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔ ملاقات کے دوران وفد نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی علاقائی زبانوں کی نمائندہ اکیڈمیاں محض انتظامی یا سرکاری یونٹس نہیں بلکہ آئینی و قانونی حیثیت رکھنے والے مکمل خودمختار علمی اور ادبی ادارے ہیں۔
ان اکیڈمیوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی زبانوں کے فروغ، تحقیق، ادب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وفد نے واضح کیا کہ یہ ادارے “سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860” کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جس کے تحت انہیں اپنی داخلی انتظامیہ، علمی سرگرمیوں اور تحقیقی فیصلوں میں مکمل خودمختاری حاصل ہے۔
مزید برآں “بلوچستان چیریٹی ریگولیشن اتھارٹی ایکٹ 2019” کی شق نمبر 7 بھی ان اداروں کی خودمختار حیثیت کی مکمل ضمانت فراہم کرتی ہے۔ وفد نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر کسی نئے بل کے ذریعے ان اداروں کی قانونی اور خودمختار حیثیت کو ختم کر کے انہیں براہِ راست بیوروکریسی کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف آئینی اور قانونی اصولوں کے منافی ہوگا بلکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کی آزادی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ ان اکیڈمیوں کا بنیادی مقصد علاقائی زبانوں اور ثقافت کے فروغ کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق، ادب، تاریخ اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
ملاقات کے دوران گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے فلور پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے اس بیان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا جس میں انہوں نے اکیڈمیوں کے شائع شدہ مواد (کانٹینٹس) کو نوجوانوں کی ریاست سے دوری کا سبب قرار دیا تھا۔ وفد اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے اس مؤقف کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اکیڈمیوں سے شائع ہونے والا تمام مواد باقاعدہ ریکارڈ پر موجود ہے اور اس کا بنیادی پیغام امن، انسان دوستی، علم، ثقافت کے تحفظ اور اپنی مٹی سے محبت کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی زبانوں کے علمی اور ادبی اداروں کو کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی بنیاد پر متنازع بنانے کے بجائے ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سیاسی اکابرین کی قیادت میں اکیڈمیوں کا ایک مشترکہ وفد جلد وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کرے گا۔ اس ملاقات کا مقصد وزیراعلیٰ کو اکیڈمیوں کے علمی، ادبی اور تحقیقی کاموں کے بارے میں مکمل بریفنگ دینا اور ان کے ذہن میں موجود ممکنہ غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا تاکہ ان تاریخی اور علمی اداروں کی خودمختار حیثیت کو برقرار رکھا جا سکے اور ان کے مثبت کردار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے وفد کو یقین دلایا کہ پارٹی صوبے کی علاقائی زبانوں، ثقافت اور علمی اداروں کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور اکیڈمیوں کی خودمختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ادب، تحقیق اور شعر و شاعری انسانی معاشروں کی فکری ترقی کا بنیادی ستون ہیں، اس لیے ان پر کسی قسم کی قدغن نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی قابلِ قبول۔ پارٹی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے کی تمام زبانوں اور ثقافتی اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
Leave a Reply