کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے حلقہ پی بی 36 قلات سے امیدوار سردار زادہ میر سعید احمد لانگو نے کہا ہے کہ 7 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی فہرست میں ووٹوں کے اندراج کے مطابق 92 بیلٹ بکس کی ضرورت تھی لیکن متعلقہ آفیسران کی ملی بھگت سے صرف 34 بیلٹ بکس پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچائے گئے 58 غائب بیلٹ بکس کے ذریعے مخالف امیدوار نے رات کی تاریکی میں ٹھپے لگاکر عوام کی حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا جس کے تمام ویڈیو شواہد اور مذکورہ پریزائیڈنگ آفیسر کے بیان ریکارڈ کا حصہ ہے اس ناروا عمل کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان اور بعد میں عدالت سے رجوع کروں گا تاکہ انصاف حاصل کرسکوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پارٹی دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کو بلوچستان سمیت ملک بھر میں عام انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ سے حصہ لیا حلقہ انتخاب میں کل 92 پولنگ اسٹیشنز تھے حلقہ میں 95 فیصد الیکشن صاف شفاف ہوئے ماسوائے جوہان گزک ، نرمک سمیت 7 پولنگ اسٹیشنوں پر میرے مخالف امیدوار ضیاء لانگو نے اپنے کارندوں کے ساتھ اسلحہ کے زور پر ان 7پولنگ کے بیلٹ پیپرز اور بکس اٹھا کر لے گئے اور 24 گھنٹوں تک آزادانہ اور خفیہ مقام پر اپنے حق میں ٹھپے لگاتے رہے
جب میں اور میرے کارکنوں نے احتجاج کیا تو ڈی آر او نے مجھے 85پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ دیا جس میں مجھے 2294 ووٹوں کی برتری حاصل تھی دوسرے دن جانبدار آر او اور ڈی آر او نے گٹھ جوڑ کرکے میرے مخالف امیدوار کو فارم 47 اور فارم 49 جاری کرکے اسے کامیاب قرار دیا جوکہ قلات کے عوام کے رائے حق رائے دہی پر شب خون مارا گیا 10 مارچ 2026ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے 7 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ کیا گیا تو ڈی آر او اور آر او قلات اور صوبائی حکومت نے میرے خلاف سازشوں کے ذریعے مجھے ناکام بنانے کی کوششیں شروع کی جب میں نے آر او اور ڈی آر او سے پریزائیڈنگ آفیسران اور یگر اسٹاف کی لسٹ کی فراہمی کامطالبہ کیا لیکن لسٹ فراہم نہیں کی گئی
کیونکہ مذکورہ آفیسران اور دیگر عملہ میرے مخالف امیدوار کے رشتہ دار اور سیاسی کارکن تھے۔ انتخاب کے دن مخالفین کے ووٹرز اور پولنگ ایجنٹس بھی موجود نہیں تھے 7 پولنگ اسٹیشنوں میں کل 8838 انتخابی فہرست کے مطابق ووٹر اندراج ہیں 7 پولنگ اسٹیشنوں میں بیلٹ بکس کی تعداد 92 بنتی ہے مگر ڈی آر او اور پریزائیڈنگ آفیسران کی ملی بھگت سے 92 بیلٹ بکس میں صرف 34 بیلٹ باکس ان 7 پولنگ اسٹیشنوں میں پائے گئے اور 58 بیلٹ بکس غائب کردیئے گئے جوکہ میرے مخالف امیدوار کے لئے رات کی تاریکی اور بند کمرے میں استعمال کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ساتھیوں کے ہمراہ پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا موجود پریزائیڈنگ آفیسران نے باقاعدہ طور پر تحریری اور ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا کہ ہمیں 34 بیلٹ بکس دیئے گئے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا۔
قلات جارہا تھا کہ راستے میں ایف سی چیک پوسٹ پر 2 گھنٹے روکا گیا اس کے بعد قلات روانہ ہوا تو کچھ نامعلوم مسلح افراد نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا تاہم میں نے صبر کا و تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں اور کوئی بڑا سانحہ پیش نہ آئے میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسلح افراد کا تعلق کسی تنظیم سے ہے مخالف امیدوار کی جانب سے میرے خلاف ایک گہری سازش تھی جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
Leave a Reply