|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید جنگی جہاز اور 5 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے اقدامات کر رہا ہے۔
5 ہزار میرینز اور نیوی اہلکاروں کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز تعینات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے کئی ممالک کیلئے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہماری زمینی اور سمندری سرحدیں 15 ممالک کے ساتھ ملتی ہیں اور ہم ہمیشہ ان سب کے ساتھ گرمجوش اور تعمیری تعلقات رکھنے کے خواہاں رہے ہیں۔
حالیہ جارحیت میں کچھ فوجی اڈے استعمال کیے گئے جیسا کہ ہم پہلے واضح طور پر خبردار کر چکے تھے اور ہم نے صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جو دشمن کے زیر استعمال تھے اور آئندہ بھی ہمیں یہی طریقہ جاری رکھنا پڑے گا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
یہ جنگ مزید پھیلتی جارہی ہے امریکہ کی جانب سے مزید جنگی جہاز اور 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا مقصدایران پر حملوں میں شدت لانا ہے جو کہ تباہی کا باعث بنے گا ۔
ایران پر مزید حملوں کاردعمل خلیجی ممالک کو جھیلنا پڑے گا کیونکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے زیر استعمال فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو خطے میں موجود ہیں۔
بہرحال اس وقت مشرق وسطیٰ ایک خطرناک موڑ پرکھڑا ہے، اگر ڈائیلاگ کا راستہ نہیں نکلے گا، جنگ بندی کی طرف معاملات نہیں جائیں گے تو ایران ردعمل میں تمام تر جنگی آپشنز استعمال کرے گا جس سے خطے کی معیشت اور امن بہت زیادہ متاثر ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *