وفاقی حکومت کے مطابق ملک میں اشیائے خوردونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسی چیز کی قلت نہیں ہے۔
ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے اور سستے داموں میں فروخت کرنے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، عوام کو اس مشکل وقت میں ریلیف اور سبسڈی کی اشد ضرورت ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ،عوام پر بہت بڑا مالی بوجھ آیا ہے ایسے غیر معمولی حالات میں سب سے پہلے ملکی عوام کو سہولت دینا ضروری ہے، ان کی ضروریات ریلیف کے ذریعے پوری کی جائیں۔
حکومت کی جانب سے خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورد و نوش کی برآمدات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ ایک بہترین فیصلہ ہے جس سے تجارتی خسارے پر قابو پایا جائے گا، قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا ،مگر برآمدات کے ساتھ اندرونی معاشی مسائل کے حل کیلئے بھی عوام دوست پالیسی ضروری ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اس سے حکومتی سطح پر مثبت پیغام عوام میں جائے گا اور حکومت کی پذیرائی ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خوردونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں اجلاس ہوا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمدت کاجائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو ملک میں موجود اشیائے خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اشیائے خوردونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسی چیز کی قلت نہیں ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں زرعی اجناس،گوشت،پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ میں برآمدکی وسیع استعداد ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کے لیے اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے، عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد بڑھی ہے، خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وافر اشیائے خورد ونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، برادر خلیجی ممالک میں اشیائے خوردونوش برآمد کرتے وقت اعلیٰ معیار یقینی بنایا جائے، پی این ایس سی خلیجی ممالک میں اشیائے خورد ونوش برآمد کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
وزیراعظم نے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔
وزیراعظم نے خلیجی ممالک میں تعینات سفیروں اور ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
بہرحال خلیجی ممالک نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، معاشی مالی امداد میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھنے کے حوالے سے فیصلہ اچھا ہے اس سے مالی فائدہ پہنچنے کے ساتھ برادر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہونگے، دونوں جانب سے تجارتی تعلقات معیشت کیلئے مثبت نتائج برآمد کریں گے۔
لیکن یہ امر پیش نظر رہے کہ گزشتہ سال چینی کی وافر ذخائر کا واویلا کرکے چینی برآمد کی گئی، پھر جب ملک میں چینی کی قلت پیدا ہونے لگی اور قیمتیں حد سے تجاوز کرنے لگیں تو پھر قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے باہر سے چینی منگوائی گئی تاکہ قیمتیں قابو میں رہیں لیکن اس کے باوجود چینی کی قیمت دو سو روپے سے بھی اوپر چلی گئی ۔
لہذاایک خدشہ یہ ہے کہ اس بار بھی ایسا نہ ہو کہ سابقہ صورتحال پیدا ہوجائے ،حد سے زیادہ غذائی اور دیگر اجناس برآمد کی جائیں اور اِدھر اپنے ملک میںقلت کی صورتحال بنے اور مہنگائی کا طوفان آئے جو پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ویسے بھی بے قابو ہوچکی ہے۔
یہ نہ ہو کہ گھوم پھر کے ہمیں پھر سے زرمبادلہ خرچ کرکے دوبارہ درآمدات کرنی پڑیں۔ لہذا صاحبان اقتدار کو یہ عوامل بھی پیش نظر رکھنے چاہییں کیونکہ گزشتہ تجربہ عوام کو حکومت سے بد ظن کرچکا ہے ۔
امید ہے کہ حکومت ہر چیز کو مدنظر رکھے گی پھر کوئی فیصلہ کرے گی کیونکہ کسی بھی ملک کی اولین ترجیح اس کے اپنے عوام ہوتے ہیں۔
ملک میں اشیاء خورد و نوش کا وافر ذخیرہ، حکومت کا خلیجی ممالک کی ضروریات پوری کرنے کا فیصلہ، عوام کو بھی ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات ضروری!
![]()
وقتِ اشاعت : 4 hours پہلے
Leave a Reply