|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

کوئٹہ : شہید نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نواب زادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ 17مارچ 2005کو ڈیرہ بگٹی پر راکٹوں اور بمبوں کے حملوں کو 20سال گزرنے کے بعد باوجود بلوچستان کے لوگ اس دن کو سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے اس دن حملوں میں ہندوں سکھ برادری کی 34خواتیں بچوں سمیت 66 سے زائد افراد کی شہادت کو کبھی نہیں بھول سکتے جنہیں حکمرانوں کی جانب سے ہمیشہ کیلئے ابدی نیند سلا دیا گیا یہ تمام حملے میرے والد کو شہید کرنے کیلئے کئے گئے تھے

لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان حملوں میں محفوظ رہے ’’ آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے نواب زادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ17مارچ 2005کو ڈیرہ بگٹی میں تین اطراف سے حکومت کی ایما پر فورسز کی جانب سے حملے کئے گئے جو 4گھنٹے تک جاری رہے اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں راکٹ اور مارٹر کے گولے برسائے گئے

میں اپنے والد کے ساتھ اس موقع پر ڈیرہ بگٹی پر موجود تھا حملے کے چند دنوں بعد پارلیمانی کمیٹی کے وفد جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر ، شیریں رحمان ، اعجاز جکھرانی ، جمعیت علما اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل تھے جو ڈیرہ بگٹی آئے جنہیں ڈیرہ بگٹی کا دورہ کروایا گیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے بمباری سے متاثرہ علاقے کو دیکھا اس موقع پر انہوں نے شہید نواب اکبر بگٹی کو کہاتھا کہ حملے اور تباہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کو ختم کرنا چاہتے تھے لیکن زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے 20سال گزرنے کے بعد وہ سیاہ دن رات ہم بھول نہیں سکتے کیونکہ اس وقت مارٹر گولے برسائے گئے

جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اب پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ایک بارپھر برسر اقتدار ہے لیکن آج تک دونوں جماعتوں کے رہنمائوں اور 17مارچ 2005کو ڈیرہ بگٹی کا دورہ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی میں مو جود نمائندے ایوانوں میں موجود ہیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے اس واقع کے بارے میں آ ج تک ایک لفظ نہیں بولا جو انکی زبان بندی کا واضع ثبوت ہے آج بھی ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان میں خوف کی فضا برقرار ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا تا ہے روز اول سے ہی مظالم جاری ہیںاور ڈیرہ بگٹی سے مظالم کا شروع ہونے والے سلسلہ اس وقت بھی بلوچستان بھر میں جاری ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *