خضدار: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء و پارٹی کے حلقہ این اے 256 خضدار سے نامزد امیدوار میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ مستحکم پاکستان،ترق یافتہ بلوچستان اور روشن مستقبل خضدار ہماری جدو جہد کا مہور ہے،خضدار کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ بی این پی اور جمعیت علماء اسلام ہے عوام نے دونوں جماعتوں کو موقع دیامگر دنوں عوام کے لئے کچھ نہیں کر سکے،پیپلز پارٹی شہداء کی جماعت اور جھالاوان عوامی پینل شہداء کا کاروان تھا اس لئے ہم نے تمام پارٹیوں کو جانچ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا پانچ اپریل ترقی خوشحالی اور پسماندگی کے درمیان مقابلے کا دن ہے
حق اور باطل کی اس جنگ میں کامیابی تیر کی ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی جانب سے پارٹی کونسلران اور عوام الناس کے لئے دی جانی والی افطار ڈنر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے پاکستا ن پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر میر عبدالرحمن زہری،ڈویژنل صدر رفیق سجاد،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد اسماعیل زہری،وڈیرہ مولا بخش جاموٹ میر جمعہ خان شکرانی عید محمد ایڈووکیٹ میر شہباز خان قلندرانی،میر زاکر علی باجوئی،میر عبدالحمید غلامانی بابو الہی بخش زہری،میر محمد اکبر جتک،الفت حسنی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر میر یاسر مینگل،میر شہزاد غلامانی،میر فدا حمد قلندرانی،حافظ علی اکبر محمد زئی،میر محمد اکرم جتک سمیت پارٹی کے دیگر علاقائی قائدین بھی موجود تھے مقررین نے کہا کہ نواب ثناء اللہ خان زہری شہداء کی وارث ہے
جس نے پاکستان کی استحکام اور سر بلندی کے لئے اپنے گھر سے جانوں کا نظرانہ پیش کیا اسی طرح میر شفیق الرحمن مینگل شہداء کی طویل داستا ن رکھتا ہے دونوں بنیادی طور پر مستحکم پاکستان کے لئے اپنے گھروں سے جانوں کا نظرانہ پیش کیا اب دونوں ملک دشمن عناصر اور مذہب کے نام پر عوا م کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سامنے آ گئے ہیں عوام اپنی روشن مستقبل کے لئے نواب ثناء اللہ خان زہری کے بازو میر شفیق الرحمن کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں تا کہ جس طرح زہری باغبانہ مولہ کرخ میں تعمیر و ترقی نظر آ رہی ہے وہی تعمیر ترقی وڈھ سمیت پورے ضلع خضدار میں شروع ہو سکے تیس سالوں تک عوام نے ایک نام نہاد سردار کو وڈھ کے صوبائی اور ضلع کے قومی اسمبلی کی سیٹ پر منتخب کرتی چلی آئی مگر نہ وڈھ کے لوگوں کی تقدیر بدلی اور نہ ہی خضدار کے عوام کو خوشحالی ملی وڈھ میں محدود پیمانے پر ماضی میں جو ترقی نظر آئی ہے وہ بھی سابق وفاقی وزیر میر محمد نصیر مینگل کی مرہون منت ہے عوام یاد رکھیں نواب ثناء اللہ خان زہری کا یہ پیغام ہے کہ پیپلز پارٹی اور میرا نامزد کردہ امیدوار ہے
ایک ہے جس کا نام میر شفیق الرحمن مینگل ہے اس کے علاوہ میرا اور پیپلز پارٹی کا کوئی اور امیدوار نہیں عوام پانچ اپریل کو تیر پر مہر لگا کر ضلع خضدار خصوصاً وڈھ سے پسماندگی کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تقریب سے میر شفیق الرحمن مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی شہداء کی جماعت ہے زولفقار علی بھٹو کو پاکستان کو مستحکم بنانے 1973 کا متفقہ آئین دینے اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی ممالک کو متحد کرنے کی سزا دی گئی
محترمہ شہید رانی کو بھی پاکستان کے ترقی و خوشحالی کی جدوجہد کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا میرے خاندان اور نواب ثناء اللہ خان زہری کے خاندان کو بھی پاکستان کی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرنے اور را کے ایجنٹوں کے سامنے رکاوٹ بننے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا مگر مخالفین یاد رکھیں شہادتوں کے باوجود ہمارا یقین مستحکم پاکستان کے تناظر میں مزید مضبوط پختہ ہو گیا ہے ضلع خضدار کے عوام نے وڈھ کے ایک نام نہاد سردار کو اسمبلی تک پہنچایا یہ بات تو یقینی تھی کہ اسے اسلام آباد تک پہنچانے میں فارم 47 نے بنیادی اور جمعیت علماء اسلام نے ثانوی کردار ادا کیا مگر انہیں 20 ارب روپے نہیں ملے تو نام نہاد سردار نے جمعیت سے پوچھے بغیر استعفیٰ کا ڈرامہ رچا کر قوم کے سامنے مگر مچھ کے آنسو رونے لگا تاریخ گواہ ہے کہ اس نام نہاد سردار نے عمران خان کی حکومت سے اربوں روپے لیکر فج اسکیمات کے تحت ہڑپ کیا شہباز شریف سے بھی اسی طرح فج اسکیمات کے نام پر اربوں روپے حاصل کئے
مگر زمین پر آج بھی پسماندگی نظر آتی ہے حکومت کو چائیے کہ وہ ان اربوں روپے کو ڈکارنے پر نام نہاد سردار کے خلاف تحقیقات کریں صحافیوں سے بھی میں گزارش کرونگا کہ وہ جن جن اسکیمات کے نام پر اربوں روپے کھائے گئے ہیں انہیں آشکار کریں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کون عوام کے لئے ترقی چاتا ہے اور کون عوام کے نام پر فنڈز حاصل کر کے دبئی اور لند ن منتقل کر رہا ہے میر شفیق الرحمن مینگل کا کنا تھا کہ روٹی کپڑا اور مکان بنیادی طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق ایک نعرہ ہے جس میں پسماندہ عوام کے لئے خوشحالی چھپی ہوئی ہے ہم اقتدار میں نہیں رہے ہیں مگر بر سر اقتدار نام نہاد فارم 47 کے منتخب ہونے والوں سے علاقے میں زیادہ ترقیاتی کام کئے ہیں جو باقاعدہ نظر آتے ہیں اب بھی ہم خضدار وڈھ سے پسماندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں خضدار سے فتنہ الہندوستان کا خاتمہ کر کے علاقے کو امن کا گہوارا بناناچاہتے ہیں
سڑکو ں کی جال بچا کر پورے ضلع کے علاقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہتے ہیں ہماری تعمیر ترقی اور خوشحالی کا یہ ایجنڈہ صرف اور صرف عوام کی ووٹوں سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتی ہے اس لئے عوام سے گزارش ہے کہ پانچ اپریل کو تیر پر مہر لگا کر علاقے سے پسماندگی کا خاتمہ کرنے اور تعمیر و ترقی کا سفر شروع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ہمارے سامنے وہ لوگ کھڑے ہیں جو بنیادی طور پر تعمیر و ترقی نہیں چاہتے بلکہ بلیک میلنگ کے زریعے فنڈز حاصل کر کے اپنا پیٹ بھرنا چاہتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ قوم پرست ہمیشہ پیٹ پرست ثابت ہوئے ہیں
جبکہ مذہینی جماعت جمعیت علماء اسلام انہیں قوم جماعت کو ایندھن فراہم کرنے والی آلہ ثابت ہوتی رہی ہے جمعیت علماء اسلام نے جس امیدوار کو ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے ہم اس کی صحت کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں اور ان سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہماری کامیابی کے لئے دعا کریں مولانا قمر الدین ہمارے بزرگ ہے مگر انہوں نے اپنے ایم این اے شب کے دور میں اسمبلی میں ایک لفظ تک نہیں بولا اور ترقی کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی اسے دوبارہ اسمبلی بھیجنا عوام کے ساتھ علاقے کے ساتھ زیادتی ہو گی اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام ایک ایسے امیدوار کا انتخاب کریں جس میں علاقے کی تعمیر و ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں علاقے کی حقوق کا دفاع کرنے کی صلاحیت بھی ہو۔
Leave a Reply