|

وقتِ اشاعت :   4 hours پہلے

ایران جنگ میں اتحادیوں کی جانب سے مدد کی درخواستیں رد ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں لیکن نیٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جیسے طاقتور ملک کے صدر کے طور پرکہنا چاہتاہوں ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا نیٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے، نیٹو کو اس وقت خطے میں ہونا چاہیے تھا۔
فرانسیسی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ نہ لینے کے بیان پر ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے نام لیے اور کہا کہ ہم جو ایران کے ساتھ کر رہے ہیں اس پر بیشتر ممالک متفق تھے لیکن ضرورت کے وقت ان ممالک نے امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ واضح رہے اس سے پہلے برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین آبنائے ہرمز کھلوانے میں ٹرمپ کی جانب سے مدد کی اپیل مسترد کرچکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کو نشانہ بنا یا گیاہے جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ ایران جنگ چھوڑ کر واپس بندرگاہ کی طرف جا نا شروع ہوگیاہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ایرانی میزائل سائٹس پر زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور بموں سے نشانہ بنایا ہے’’ایکس ‘‘پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع مضبوط میزائل سائٹس پر کامیابی کے ساتھ متعدد 5000 پانڈ وزنی زیرِ زمین اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بموں کا استعمال کیا ہے۔
امریکہ فوج کے مطابق ان مقامات پر موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے ۔
ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثرہوئی ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کے یہ بڑے بم جنہیں بنکر بسٹرز کہا جاتا ہے ان بموں سے طاقت میں کم ہیں کہ جو اس نے گزشتہ سال ایران میں تین زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر حملے کے دوران استعمال کیے تھے۔
امریکہ کو اپنے اتحادیوں کی حمایت نہ ملنے کے بعد یہ خدشہ بڑھتا جارہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے اپنی پوری طاقت استعمال کرے گااگرچہ اب بھی ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کی اہم قیادت کو اب تک امریکہ اور اسرائیل نشانہ بنا چکے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔
ایران میں رجیم چینج کا بنیادی مقصد امریکہ اور اسرائیل حاصل کرپائینگے یا نہیں یہ کہنا فی الحال مشکل ہے، ایران کے اندر سے بھی امریکہ اور اسرائیل کو کسی قسم کی حمایت نہیں مل رہی ہے جو کہ ان کے مقاصد کے حصول میں بڑی رکاوٹ اور شکست کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
جنگی حالات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ جس طرح امریکہ نے ماضی میں جن مسلم ممالک میں مداخلت کرکے رجیم چینج کیا وہاں حالات اب تک بہتر نہیں ہوئے بلکہ امریکہ مخالف ہی گروپ سامنے آئے لہذایہ جنگ بھی امریکہ اور اسرائیل کیلئے لاحاصل ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *