|

وقتِ اشاعت :   July 5 – 2016

خضدار : سابق رکن قومی اسمبلی و بی این پی کے مرکزی رہنماء میر عبدالرؤف مینگل نے کہا ہے کہ جھالاوان کی سرزمین کئی نامورشخصیات کو جنم دی ہے اس عظیم سر زمین کو گزشتہ دس سالوں میں بانجھ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ،خضدار سے منتخب اراکین اسمبلی اور سینٹروں کا خضدار کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار نظر نہیں آتا ،سردار عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں قائم نیپ کی حکومت نے مختصر دورانیہ میں بلوچستان کے طلباء کو بولان میڈیکل کالج اور بلوچستان یونیورسٹی کا تحفہ دیا ۔ جبکہ سردار اختر جان مینگل نے اپنے مختصر دور حکومت میں انجینئرنگ کالج خضدار کو یونیورسٹی کا درجہ دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شب جھالاوان کمپلیکس میں منعقدہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے اختتام پر شائقین سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر بی این پی کے رہنماؤں سردار بلند خان غلامانی ،سفر خان مینگل ،صادق غلامانی ،میر شفیق احمد مینگل ،سمیت دیگر بھی موجود تھے سابق رکن قومی اسمبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری سیاست کا محور ہمیشہ عوام کی حقوق کی نگیبانی رہی ہے ہم نے ہمیشہ یہاں کے عوام کے لئے قربانیاں دی ہیں اور دیتے رئینگے خضدار کے عوام اور ہم سب کے لئے چند سالوں کی تاریک رات گزری جس میں خضدار جسے شخصیات پیدا کرنے کا سر زمین کہا جاتا ہیں ۔ کو بانچھ کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ،ڈاکٹروں ،کاشتکاروں ،صحافیوں ،سیاسی کارکنوں ،لیویز فورس و پولیس کے جوانوں سمیت قبائلی شخصیات سب کو ٹارگٹ کیا گیا مگر وہ اندھیری رات اب ایک روشن صبح کی صورت میں طلوع ہو چکی ہے اب ہمیں آگے بڑھنے کی کوشش کر نا ہیں نوجوان حصول علم پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں تعلیم یافتہ نسل ہی اپنی قومی حقوق کا بہتر انداز میں تحفظ کر سکتی ہے نوجوان منشیات سے دوری اختیار کریں اور باہمی احتراف و محبت کی فضاء کو قائم رکھنے کی کوشش کریں ،انہوں نے کہا کہ جب میں ایم این اے تھا تو ٹاون شپ خضدار میں کرکٹ اسٹیڈیم کے لئے بہت بڑی زمین الاٹ کی اور کرکٹ بورڈ والوں سے معاہدہ بھی ہوا مگر اب وہ زمین کس کے کھاتے میں ہیں معلوم نہیں میں ڈپٹی کمشنر خضدار کو متوجہ کرونگا کہ وہ کھیل کے لئے مختص اس زمین کے متعلق تحقیقات کریں انہوں نے کہا کہ خضدار کے امن کو دائمی بنانے کے لئے بی این پی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی ۔