|

وقتِ اشاعت :   July 12 – 2016

کراچی: شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں فائرنگ سے مسجد کے پیش امام ہلاک ہوگئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) گلشن فہد احمد کے مطابق گلستان جوہر بلاک 7 میں صفورہ چورنگی کے قریب واقع مسجد صدیق اکبر کے پیش امام کو 2 نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر گولیاں ماردیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ایس پی کے مطابق زخمی پیش امام کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔ ایس پی فہد احمد کے مطابق پیش امام کی شناخت حبیب الرحمٰن کے نام سے ہوئی، جنھیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ڈان نیوز کے مطابق پیش امام کو بظاہر چندے کے تنازع پر قتل کیا گیا۔ یاد رہے کہ کراچی میں ستمبر 2013 میں دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے دعویٰ کیا کہ شہر میں جرائم کی شرح میں واضح کمی ہوئی ہے۔ تاہم شہرِ قائد میں گذشتہ ماہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے ہائی پروفائل کیسز سامنے آنے کے بعد سے شہر میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک واقعہ معروف قوال امجد صابری کے قتل کا بھی ہے، جنھیں گذشتہ ماہ 22 جون کو نامعلوم افراد نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں گولیوں کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ اس سے قبل چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کو کلفٹن میں واقع ایک سپر اسٹور کے باہر سے نامعلوم ملزمان نے دن دیہاڑے اغواء کرلیا تھا، جن کے حوالے سے اب تک کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔