انقرہ: اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ترکی کے آرمی چیف ہلوسی آکار کو بھی ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرالیا گیا۔
امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ چیف آف اسٹاف جنرل ہلوسی آکار کو انقرہ کے نواحی علاقے میں موجود ایک فضائی اڈے سے ایک آپریشن کے دوران بازیاب کروایا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنرل ہلوسی آکار کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
قبل ازیں جمعے کی شب جنرل آکار کو انقرہ میں قائم فوجی ہیڈکوارٹرز سے یرغمال بنالیا گیا تھا اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اکینسیلار ایئربیس منتقل کردیا گیا تھا۔
سی این این ترک کے مطابق اب جنرل آکار فوج کی کمان سنبھال کر اُن لوگوں کے خلاف آپریشن کی سربراہی کررہے ہیں جنہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔
ترکی کے پولیس چیف کے مطابق اب تک فوجی بغاوت کی کوشش کرنے والے 16 اہلکار ملٹری پولیس کمانڈ کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دیگر 1563 کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری پولیس کمانڈ میں جھڑپیں ساڑھے 8 بجے صبح تک جاری تھیں جو اب ختم ہونے کے قریب ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ترکی کے ایجیئن ریجن کمانڈ کے چیف آف اسٹاف جنرل محمود حق بیلن بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ترکی کی سرکاری اناتولو نیوز ایجنسی کے مطابق فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد سے اب تک ملک بھر سے تقریباً فوج کے 1563 افسران کو حراست میں لیا گیا۔
ترک صدر رجب طیب ارگان کی جانب سے فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کے دعوے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ انقرہ میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر کس کا کنٹرول ہے۔
ترک خفیہ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ
برطانوی خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فوج کے ایک گروپ کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کے دوران ترک خفیہ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا گیا۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق رات گئے ملٹری ہیلی کاپٹرز اور ہیوی مشین گنز سے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ان سارے واقعات کے دوران انٹیلی جنس چیف حقان فدان ایک محفوظ مقام پر موجود رہے اور صدر طیب اردگان اور وزیراعظم بن علی یلدرم سے مسلسل رابطے میں رہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ خفیہ ایجنسی فوج، پولیس اور دیگر اداروں کے فوجی بغاوت کی کوشش کرنے والے اہلکاروں کے خلاف آپریشن میں تعاون کررہی ہے۔