کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جو لوگ ملک میں مارشلاء کو دعوت دیتے ہیں وہ اس انتظار میں تھک گئے کہ کب کوئی ایسی حکومت آئے گی اور اقتدار سنبھالے گی جس میں ان کو بھی حصہ ملے یہ خواب کبھی بھی ان کا پورا نہیں ہوگا ماضی میں ڈکٹیٹروں کے دور میں ملک کو سب سے زیادہ نقصان ہوا اور ہرامر کے دور میں ملک کو تباہی و بربادی سے دوچار کیا دہشت گردی انتہاء پسندی اور رجعت پسندی کو فروغ دیا گیا ترکی عوام نے جمہوریت کی بحالی کیلئے جو قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اب پوری دنیا میں کوئی فوجی ڈکٹیٹر اقتدار کا سوچے گا وہ بار بار اس بات پر غور کرے گا کہ اس کے بعد ردعمل کیا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عمران خان کا نکتہ نظر ہے اور اس انتظار میں وہ تھک گئے کہ کب ملک میں فوجی حکومت آئے گی اور اقتدار سنبھالے گا تاکہ ان کو بھی ان کا حصہ ملے لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جن ڈکٹیٹروں نے مارشلاء لگایا انہیں کے دور میں ملک بحرانوں سے دوچار ہوا ایوب خان سے لیکر مشرف تک ملک میں ہیروئن کلچر ‘ انتہاء پسندی ‘ رجعت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ ملا اور مشرف کے دور میں ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہوا اور آزادی کی تحریکوں کو جنم دیا گیا انہوں نے کہا کہ دنیا میں روایت رہی ہے کہ ماضی کو بنیاد بنا کر مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں جس میں قوموں کی خیر ہو مگر بدقسمتی سے ہم و ہ کام کررہے ہیں جس میں قوم اور ملک کو مزید پسماندگی کا شکار بنا دیتے ہیں ترکی عوام نے ملک میں مارشلاء کی سازش کو ناکام بناکر جمہوریت کیلئے تاریخی کردار ادا کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور ملک میں جمہوریت کو ہی پسند کرتے ہیں اور اب دنیا میں جس ملک میں فوجی ڈکٹیٹر آئے گا وہ ضرور سوچے گا کہ اس کے بعد عوام کا ردعمل کیا ہوگا اس ملک کو صرف پارلیمانی اور جمہوری نظام ہی بچا سکتا ہے ۔