|

وقتِ اشاعت :   July 21 – 2016

کوئٹہ : محکمہ ایریگیشن نصیر آباد کے مقامی عملہ نے چیف سیکرٹری اور کمشنر کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، پٹ فیڈر پر قائم غیر قانونی پمپنگ اسٹیشن نے دوبارہ کام شروع کر دیا، 36پمپنگ مشین چیف سیکرٹری کے احکامات کے بعد عارضی طور پر ختم کر دیئے گئے، ایریگیشن ودیگر متعلقہ اہلکاروں نے دوبارہ غیر قانونی پمپنگ مشین لگانے کی اجازت دیدی ،4جولائی کو چیف سیکرٹری نے مقامی کسانوں ور کاشتکاروں کی شکایت پر پانی چوری ختم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس پر کمشنر نصیر آباد ڈویژن نے 10جولائی کو پٹ فیڈر پر لگے 50میں سے 36غیر قانونی پمپنگ بلڈوز کئے اور ان کے مالکان کیخلاف مقدمات درج کرا دیئے ، ایک دن کی خاموشی کے بعد چند ایک کے سوائے تمام غیر قانونی پمپنگ مشین نے دوبارہ کام شروع کردیا، محکمہ ایریگیشن کے مقامی حکام کی ذمہ داری تھی کہ اعلیٰ ترین انتظامی افسران کے احکامات پر عمل کرے مگر انہوں نے اپنے فرائض سے پہلو تہی کی اور مبینہ طور پر بھتے کیلئے پمپنگ مشینوں کیخلاف کوئی اقدامات نہیں اٹھائے، 10جولائی کے بعد متعلقہ حکام نے دوبارہ اس علاقہ کا دورہ تک نہیں کیا واضح رہے کہ 30ستمبر 2015کو بلوچستان ہائی کورٹ کے ہی بینچ نے پٹ فیڈر اور کیرتھر نہروں پر ہر قسم کے غیرقانونی پمپنگ نظام اور پانی چوری کو روکنے کا حکم دیاتھا، زمیندار کاشتکار تحریک کے رہنماؤں ، عبدالستار بنگلزئی ، حاجی داؤد بنگلزئی اور طارق بلوچ نے محکمہ ایریگیشن اور مقامی انتظامیہ کے رویہ اور مبینہ بددیانتی کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کیا جائے اور بھتہ لینے والے افسران کیخلاف کارروائی کی جائے