|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2016

کوئٹہ : جمعیت علمااسلام کلی شابو کے زیراہتمام عظیم الشان شمولیتی جلسے سے مولانافیض محمد،ملک سکندرخان ایڈوکیٹ،سیدمحمدفضل آغا،مولاناولی محمد ترابی،نواب خان اچکزئی،مولانااللہ دادخیرخوا، مولانامحمدسلیم، ناصرمسیحی،حافظ قدرت اللہ لہڑی،مفتی عبدالغفورمدنی، حافظ عبداللہ،عزیزاللہ پکتوی،مفتی اکرام اللہ، حافظ محمدطاہرزیرئی، حاجی بشیرکاکڑ، اورعبدالجبارعادل کاخطاب۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قوم پرستوں نے قوم سے جووعدے انتخابات میں کئے تھے اورعوام نے ان کے اوپر اعمتادکرکے ووٹ دیاآج ان قوم پرستوں اوراس قوم کے درمیان رابطے ٹوٹ چکے ہیں اورقوم پرست صرف چند خاندانوں کونوازنے کیلئے سرگرم ہیں ان کے سرگرم اور مخلص ورکرز ان سے ناراض ہوکردوسری پارٹیوں کا رخ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں اب تک قوم پرستوں کے مخلص ورکرز جمعیت علمااسلام میں شمولیت کااعلان کرچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نواب خان اچکزئی کی جمعیت میں شمولیت سے نہ صرف جمعیت اس علاقے میں فعال ہوگی بلکہ ایسے مخلص کارکنوں کی جمعیت میں شمولیت سے جماعت پورے کوئٹہ میں فعال ہوجائیگی اوران کی صلاحیتوں سے جماعت منظم اور مظبوط بن جائیگی۔انہوں نے کہاکہ صوبائی سطح پرجمعیت علمااسلام سب سے فعال اور منظم سیاسی قوت ہے اور جمعیت نے تاریخ میں ہمیشہ نہ صرف سماجی میدانوں میں کام کیاہے بلکہ ترقیاتی کاموں کا جال بچایاگیاتھااورانصاف کیساتھ کام کیاگیاہے اس لئے آج عوام کی نظریں جمعیت ہرلگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ قوم پرستوں سے عوام کااعتماداٹھ چکی ہے لوگ انصاف اورترقی چاہتے ہیں آج قوم پرست حکومت کے وزراء سابق حکومت کے منصوبے کو مکمل کررہے ہیں اس حکومت نے کوئی نیامنصوبہ نہیں لایاہے ۔انہوں نے کہاکہ قوم پرستوں نے ہمیشہ اقوام میں نفرتیں اور اختلاف پیداکرکے سیاسی حیثیت بنایااور بچایاہے جب اقوام میں نفرتیں اور جھگڑے پیدا ہوں گے توقوم پرستوں کی سیاست زندہ ہوگی اگرقوم متحد اور باہم شیروشکر ہوں گے توقوم پرستوں کی سیاست دم توڑ جائیگی ۔انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین ہمارے مہمان ہیں ان کوبری نظروں سے دیکھنااورشناختی کارڈ کے نام پر تنگ کرنا قومی پالیسوں اور بین الاقوامی قوانین کیخلاف عمل ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت افغان مہاجرین کے بارے میں معزب اور انصاف پر مبنی پالیسی بنائیں افغانستان میں اس وقت حالات اس قدرسازگار نہیں ہیں کہ مہاجرین کوجانے کاکہاجائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی اس حوالے سے جوپالیسی ہے اس کافائدہ انڈیا اوردیگرپاکستان مخالف قوتوں کو مل رہاہے لہٰذا حکومت افغان مہاجرین کوحراساں کرنے اور زبردستی نکالنے کے کردارپرنظرثانی کرے۔انہوں نے کہاکہ لگتاہے کہ امریکہ پاکستان کوتنہاکرنیکی سازشی پالیسی پرعمل پیرا ہوچکی ہے اس لئے کہ ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج ہم پوری دنیامیں تنہائی محسوس کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اقتدار سے اترتے ہی قوم پرست پھر باہمی طورقوموں کے درمیان جھگڑپیداکریں گے اور سیاسی میدان میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے سازشیں کریں گے ۔