کوئٹہ: عدالت عالیہ بلوچستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس محمد نور مسکانزئی کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالت عالیہ کے تمام معزز حج صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس میں شعبہ قانون سے متعلق شہداء ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایاگیا اور ابتدائی طور پر تمام معزز حج صاحبان کی تین دن کی تنخواہ، ضلعی عدلیہ کے جج صاحبان کی دو دون کی تنخواہ اور عدالت کے باقی عملے کی ایک ایک دن کی تنخواہ جو کہ تقریباً ایک کرو ڑوپے بنتی ہے ٹرسٹ میں دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ مذکورہ ٹرسٹ ضرورت مند شہید وکلاء کے پسماندگان کی مالی مدد اور دیگر ضروریات کا خیال رکھے گا،دریں اثناء چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جناب جسٹس محمد نور مسکانزئی کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالت عالیہ کے جج صاحبان، رجسٹرار، عدالت عالیہ ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انسپیکشن ، بار کے منتخب نمائندگان و دیگر سینئر وکلاء نے شرکت کی۔ جناب چیف جسٹس صاحب کے تعارفی کلمات کے بعد معزز شرکاء نے اپنی گراں قدر رائے کا اظہار کیا۔اور آخر میں متفقہ طور پر فیصلہ کیاگیا کہ شہداء8اگست کے وکلاء اور مضروبین سے متعلق تمام معاملات کو نمٹانے کیلئے ایک کمیٹی کا قیام ضروری ہے جس کا متفقہ طور پر قیام عمل میں لایاگیا جناب جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کمیٹی کے چےئرمین، جناب جسٹس عبداﷲ بلوچ کنوینئرجبکہ عبدالغنی خان خلجی ایڈوکیٹ صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، نصیب اللہ ترین ایڈوکیٹ جنرل سیکرٹری، منیر احمد خان ایڈوکیٹ ممبر بلوچستان بار کونسل، شاہ محمد جتوئی ایڈوکیٹ ممبر بلوچستان بار کونسل، راہب خان بلیدی ایڈوکیٹ ممبر بلوچستان بار کونسل، مصطفی ایوب گچکی ایڈوکیٹ ممبر بلوچستان بار کونسل، خوشحال خان کاسی ایڈوکیٹ جنرل سیکرٹری بلوچستان بار ایسوسی ایشن ، کامران مرتضی ایڈوکیٹ ممبر پاکستان بار کونسل، عبداﷲ خان کاکڑ ایڈوکیٹ نائب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کمیٹی کے ممبران ہوں گے کمیٹی شہداء اور مضروبین سے متعلق معاملات کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھے گی۔