|

وقتِ اشاعت :   November 24 – 2016

کوئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے دشت میں تین ہفتوں سے زائد جاری آپریشن میں کئی گھروں کو جلانے اور قیمتی سامان لوٹنے کے ساتھ کئی نہتے بلوچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیاہے۔ اس آپریشن میں دشت کے علاقے کمبیل و گرد ونواح میں میں ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے مال مویشی اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گوادر سے متصل علاقہ ہونے کی وجہ سے دشت مسلسل فورسز کی کارروائیوں کا سامنا کر رہاہے۔ یکم نومبر سے شروع ہونے والی آپریشن میں اب تک سو کے قریب نہتے بلوچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 23 دنوں سے جاری آپریشن کا مقصد نام نہاد ترقی و چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے قافلے محفوظ طور پر گوادر پہنچانا تھا۔ اسی آڑ میں اس راستے میں بلوچ آبادی کو دہشت گرد کا لیبل لگا کرعلاقہ بدر ہونے پر مجبور کیا جا رہاہے۔ اس روٹ پر پہلے ہی پروم، بالگتر، ہوشاپ، گیشکور، ڈنڈار، سامی، شہرک، شاپک، دشت، کولواہ، پیدارک سمیت کئی علاقوں سے مقامی لوگ فورسز کی کارروائیوں سے متاثر ہوکر نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے۔ حقائق کو چھپانے کیلئے میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں پر بلوچستان داخلے پرپابندی عائد کی جا چکی ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے بھی اپنی جان کی پناہ میں خاموشی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے پچاس کے قریب صحافی اور انسانی حقوق کے اراکین پراکسیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے خفیہ اداروں نے کراچی ائیر پورٹ میں آواران کولواہ کے رہائشی نذیر ولد ہونک کو دبئی جاتے ہوئے اغوا کر کے لاپتہ کیا، جس کا تاحال کوئی خبر نہیں۔