کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ سانحہ شاہ نورانی میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ واقع میں ملوث ذمہ داران کو گرفتار کر کے کیفر کردار سزا دی جاتی لیکن ماضی کی طرح ایک بار پھر درگاہ کے خلفیہ سمیت تین افراد اور وڈھ سے حضور بخش بلوچ سمیت دو افراد اغواء کی نما گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں جو باعث تشویش ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سانحہ شاہ نورانی کے بعد فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے ذمہ داروں تک پہنچا جاتا اور غیر جانبدارانہ طریقے سے باریک بینی سے معاملات کا جائزہ لیا جاتا لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ بے گناہ افراد جو خود سانحہ شاہ نورانی سے متاثر ہوئے جو درگاہ کے خدمتگار تھے انہیں کو ہی لاپتہ کر دیا گیا ہے وڈھ اور حضور بخش بلوچ سمیت دو افراد کے لاپتہ کرنے کا عمل علاقے میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول عمل نہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان بالخصوص جھالاوان وڈھ کے بلوچ بخوبی آگاہ ہیں کہ وڈھ و جھالاوان کے امن کو تہہ و بالا کیا گیا اب ایک بار پھر مختلف قوتوں کو سرگرم کر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور ملک کے ہر طبقہ فکر کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بلوچستان میں سازش کے تحت حالات کوکس طرح خراب کیا گیا بہت سے واقعات میں ملوث افراد کیخلاف مقدمات درج ہونے کے باوجود ملزمان کو کھلی چھوٹ دینا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بے گناہ انسانوں کے قتل و غارت ‘ مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے تاکہ حالات ابتری کی جانب نہ جا سکیں بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر درگاہ شاہ نورانی کے خلفیہ سمیت دیگر بے گناہ بلوچوں کو منظر عام پر لایا جائے اب کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ جھالاوان میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلے ہمارے خدشات و تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں وڈھ میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری بلواسطہ یا بلاواسطہ حکمرانوں اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ شرپسند عناصر کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں آج بھی لیویز اہلکاروں کے لواحقین انصاف کے متلاشی ہیں ۔