کوئٹہ : نا اہل اور کرپٹ وائس چانسلر کے خلا ف طلباء تنظیموں کا بھوک ہڑتالی کیمپ آج 126واں دن بھی پریس کلب کے سامنے جاری رہا ۔
جس میں مختلف نقطہ فکر سے تعلق رکھنے والے جسمیں ڈاکٹرز ،انجینئرز ،اور مختلف اداروں کے طلباء نے اظہاریکجہتی کی کیمپ میں بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب ،بی ایس او پجار کے صوبائی سینئر نائب صدر کریم بلوچ ،پی ایس ایف کے ملک انعام کاکڑ اور ایچ ایس ایف کے مرکزی چیئرمین نازیر لطیف اور بی ایس او کوئٹہ کے صدر عاطف بلوچ اور دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نا اہل وائس چانسلر اور انکے کرپشن میں ملوث انتظامیہ نے کرپشن ،نا اہلی ،طلباء وطالبات کے مسائل پر چشم پوشی او رمکمل خاموشی اختیار کرنا مذمت ہے ۔
آئین کے روس ے اسمبلی قانون ساز اور فیصلہ کرنے والا ایوان ہے مطالبات بلوچستان اسمبلی کے فلورسے طلباء تنظیموں کے مطالبات منظور ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طلباء تنظیمیں حق اور سچ یہ ہے ہمارے مطالبات بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے کے باوجود وائس چانسلر کا ان مسائل کو حل کرنے میں عدم دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وائس چانسلر جامعہ بلوچستان نے سامنے اس مقدس ایوان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کے مقدس ایوان کو جوابدیدہ ہے جو سراسر آئین وقانون کے بالادستی کو چیلنج کرنے کے مترادف اور اس مقدس ایوان کی بار بار توہین کرتا چلاآرہا ہے ۔
بلوچستان اسمبلی کو اپنے تقدس اور قانونی بالادستی کو برقرار رکھنے کیلئے وائس چانسلر کے فوری معطل کرکے ان کے خلاف فوری کاررؤائی عمل میں لاکر یہ واضح کریں کہ آئین اور قانون ساز ادارے کے سامنے کوئی بھی جوابدیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ طلباء تنظیمیں جو پچھلے 126دنوں سے اپنے تعلیمی مطالبات یونیورسٹی میں کرپشن اور دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے سراپا احتجاج ہے اور وہ قانون ساز اسمبلی کے طرف دیکھتے ہیں لیکن انکے باوجود وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان اسمبلی کے قرارد اد پر عمل نہیں کرنا قابل افسوس ہے ۔
اگر طلباء وطالبات اسمبلی کے خلاف سے بھی مایوس ہوکر تو طلباء مجبوراً اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج توسیع کرکے جلد باہمی مشورے قومی شاہراہوں کو بلاک کرکے شٹرڈاؤن اور دیگراحتجاج کے طرف جائینگے۔