|

وقتِ اشاعت :   October 4 – 2017

کوئٹہ: سینیٹ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی صدر سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبائی خود مختیاری کیلئے طویل و صبر آزما جدوجہد کرنے پر ہمارے قائدین پر ملک سے غداری اور کفر کے فتوے لگے مگر پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد 7سال گزرنے کے باوجود بھی 18ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کیلئے اسلام آباد کے حکمران اور بیوروکریسی سنجیدہ نہیں ہے ۔

این ایف سی ایوار ڈ کے بغیر بجٹ بنانا غیر قانونی ہے مگر دو سال سے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوار ڈ )جیسا آئینی معاملہ طے نہیں ہو سکا ہے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی ) میں وزیر اعظم نے پنجاب سے زیادہ ممبران کا انتخاب کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام جمہوری و سیا سی جماعتوں نے اتفاق رائے سے 18ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا تھا مگر آج بھی اسلام آباد کے حکمران اور بیور وکریسی 18ویں آئینی ترمیم کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور انہوں نے عملاً اسے قبول نہیں کیا ہے ۔

سینیٹ کی منتقلی اختیارات کمیٹی مسلسل تندہی سے محنت کر رہی ہیں تاکہ پارلیمنٹ و سینیٹ کے راستے حکومت کو مجبور کریں کہ وہ 18ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کرتے ہوئے صوبوں اور قومی وحدتوں میں بے جا انتظامی و سیکورٹی کے نام پر جاری مداخلت بند کر کے آئین کے تحت دیے گئے تمام اختیارات صوبوں اور قومی وحدتوں کو منتقل کردیں ۔

سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ اگر چہ 18ویں آئینی ترمیم میں سینیٹ کے اختیارات کا تعین کرنے ،پشتونوں اور پشتون وطن کی قومی تشخص کی بحالی ،پشتو،بلوچی ،بروہی ،سرائیکی ،سندھی اور پنجابی کو قومی زبانیں قرار دینے اور دیگراقدامات رہ گئے ہیں مگر وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی )کو سیکرٹریٹ تک فراہم نہیں کیا ہے جس سے ان کی 18ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے مطابق 4وزارتیں و محکمے وفاق و مرکز میں رہتی اور باقی تمام محکمے و زارتیں صوبوں اور قومی وحدتوں کو منتقل ہونے تھے مگر بد قسمتی سے وزارتوں کا نام بدل کر اکثر محکمے بدستور وفاقی حکومت کے پاس ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن و پٹرولیم و گیس بھی صوبوں اور قومی وحدتوں کو منتقل نہیں کیے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پشتونخوا اور پشتون بلوچ مشترکہ صوبے کے معدنیات ،گیس و تیل کے حوالے سے بھی ہمارے حق تلفی کی جارہی ہیں اگر وفاقی محکموں اور وزارتوں میں قومی وحدتوں کی برابر نمائندگی ہو تی تو مردم شماری میں ہمارے ساتھ زیا دتی نہیں ہو تی ۔

اس لیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم پر اس کی روح کی مطابق عمل درآمد کرتے ہوئے وفاقی حکومت صوبوں اور قومی وحدتوں میں مختلف شکلوں سے وزارتوں میں سیکورٹی کے نام پر جاری انتظامی مداخلت بند کرتے ہوئے آئین کے مطابق قومی وحدتوں اور صوبوں کو ان کے تمام حاصل اختیارات منتقل کر دیں۔