اسلام آباد : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیندک منصوبہ سے 1500 پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے مقامی دیہات کو مفت خدمات کی فراہمی جاری ہے، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے طویل المیعاد بنیادوں پر شہریوں کو فوائد ملیں گے۔
حکومت نے سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ،دوستانہ پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس میں سیندک میٹلز لمیٹڈ اور چین کی میٹرلرجیکل کارپوریشن (ایم سی سی ) کے درمیان سیندک میں سونے اور تابنے کی لیز معاہدے کی مدت میں ایک سالہ توسیع کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب سے قبل ایم سی سی کے صدر ژانگ منگ ژنگ اور دیگر اعلی حکام سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیندک منصوبہ کو تجارتی آپریشن کی سطح پر لانے کے سلسلہ میں ایم سی سی کا کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے 1500 پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے مقامی دیہات کو مفت خدمات کی فراہمی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے طویل المیعاد بنیادوں پر شہریوں کو فوائد ملیں گے،
انہوں نے کہاکہ حکومت نے سرمایہ کاروں کیلئے سازگار اور دوستانہ پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
ایم سی سی کے صدر نے گرمجوشی سے استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں محفوظ ماحول میں کام کر رہی ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اﷲ زہری، پاکستان میں چینی سفارتخانہ کے ناظم الامور ژاؤ لی جیان، پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن اور بلوچستان حکومت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
دریں اثنا ء وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کی قلت کو دور کرنے کیلئے قطر سے ایل این جی برآمد کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔
گزشتہ حکومتوں نے ایل این جی برآمد کرنے کی کوشش کی اور ان کے نتائج صفر رہے اور ملک توانائی کی قلت کا شکار ہوا، ایل این جی کی برآمد کے بعد گیس کے بحران کا مسئلہ حل ہوا، اب وافر گیس سارے ملک میں دستیاب ہے اور اس سے ملک کی معیشت کو فائدہ ہوا، معاہدے سے قبل کھادیں امپورٹ کی جاتی تھی اب ایکسپورٹ کر رہے ہیں، صنعتوں کو بلا تعطل گیس فراہم کی جارہی ہے ، فرنس آئل کے مقابلے میں سستی بجلی پیدا کی جا رہی ہے ،قطر دنیا میں ایل این جی پیدا کرنے والی سب سے بڑا ملک ہے، 15سالوں میں یہ سستا ترین معاہدہ ہے۔
معاہدے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں،آ ج بھی معاہدے کے تحت سستی قیمت پر گیس برآمد کی جارہی ہے، معاہدے کی تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ چیئرمین سینیٹ میا ں رضا ربانی نے قطر سے ایل این جی برآ مد کے حوالے سے معاہدے کے تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایوان میں بیان پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پراپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے روئیے کیخلاف ایوان سے واک آ ؤٹ کیا۔
جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینٹر شیری رحمن کی جانب سے پیش کئے گئے پاکستان اسٹیٹ آ ئل اور قطر گیس کے درمیان 2016کو ہونے والے ایل این جی معاہدے جس کے تحت ایل این جی معاہدہ میں طہ شدہ قیمت پر2026سے قبل دوبارہ بات چیت نہیں ہو سکتی۔
پر ایل این جی کی قیمت دوبارہ طے کرنے کے لئے دوبارہ بات چیت کی پرائس ریویو نو ٹس کی جانب وزیر توانائی کی توجہ مبذول کرانے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نو ٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کی کمی کو دور کرنے کیلئے ایک طریقہ تھا کہ گیس کی مقدار بڑھائی جائے اور ایل این جی برآمد کی،گزشتہ حکومتوں نے ایل این جی برآمد کرنے کی کوشش کی اور ان کے نتائج صفر رہے اور ملک توانائی کی قلت کا شکار ہوا، صنعتوں میں گیس بند کارخانے اور سی این جی سٹیشن بند تھے۔
ایل این جی کی برآمد کے بعد مسئلہ حل ہوا، اب وافر گیس سارے ملک میں دستیاب ہے اور ملک کی معیشت کو فائدہ ہوا، پہلے فرٹیلائزر امپورٹ کی جاتی تھی اب ایکسپورٹ کر رہے ہیں، اب سستی بجلی پیدا کی جا رہی ہے، فرنس آئل کے مقابلے میں ،یہ دو ممالک کی حکومتوں کے درمیان معاہدہ تھا۔
حکومتوں نے کمپنیوں کے ذریعے معاہدہ ہوا قطر دنیا میں ایل این جی پیدا کرنے والی سب سے بڑا ملک ہے اور پریمیم پر ایل این جی فروخت کرتا ہے، معاہدے کے تحت ساری معلومات ویب سائٹ پر نہیں ڈالی گئی، معاہدے کی تفصیلات موجود ہیں، یہ سستا ترین معاہدہ تھا، آج بھی 15سالوں میں یہ سستا ترین معاہدہ ہے، یہ قطر کا پہلا معاہدہ تھا جس میں قیمتوں کے تعین پر بحث کی گئی ہے۔
دس سال تک قیمتوں پر نظرثانی کی گنجائش ہے، معاہدے کا میں مکمل ذمہ دار ہوں، نظرثانی کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود اپنی ذمہ داری سے کرایا، یہ سستی ترین قیمت پر معاہدہ کیا گیا ہے، اجلاس میں چئیرمین سینیٹ کی جانب سے سینیٹر اعتزاز احسن کو توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرنے سے منع کرنے پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے وزیراعظم کو قطر سے ایل این جی کے معاہدے کی تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔چئیرمین سینیٹ نے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق کو اپوزیشن کے ارکان کو واپس ایوان میں لانے کے لئے کہا جس پر راجہ ظفر الحق پیپلز پارٹی کے ارکان سے بات چیت کے بعد واپس آ ئے اور آ گاہ کیا ارکان نے کہا ہے کہ وہ پریس کانفرنس کریں گے۔
قبل ازیں توجہ دلاؤ نو ٹس پر جواب دیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ انتہائی اہم معاملہ ہے وزیراعظم کا شکریہ انہوں نے اہمیت دی اور جواب دینے کیلئے خود تشریف لائے، 2016میں ایل این جی کی دوحہ میں ڈیل پر دستخط کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ ڈیل دس سال کیلئے کی گئی تھی۔
لوڈشیڈنگ میں کہا گیا تھا کہ کمی آئے گی، معاہدے کی تفصیلات مانگی گئیں لیکن پارلیمنٹ کو نہیں دی گئیں اور ویب سائٹ پر قیمتوں کو نہیں ظاہر کیا گیا، پاکستان زائد شرح سے قیمت ادا کر رہا ہے، معاہدے کے تحت قطر کے ساتھ گیسکی قیمتوں کی دوبارہ نظر ثانی نہیں کی جا سکتی، رینٹل پاور منصوبہ اس سے تین گنا کم قیمت پر سائن ہوا تھا، حکومت عدالت میں گئی اور منصوبہ منسوخ ہوا اور عالمی ثالثی کی عدالت کے فیصلے کے تحت 800ملین ڈالر جرمانہ ادا کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ کو ایل این جی معاہدے کی تفصیل فراہم کی جائے۔
دریں اثناء وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیندک منصوبہ سے 1500 پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے مقامی دیہات کو مفت خدمات کی فراہمی جاری ہے، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے طویل المیعاد بنیادوں پر شہریوں کو فوائد ملیں گے۔ حکومت نے سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ،دوستانہ پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس میں سیندک میٹلز لمیٹڈ اور چین کی میٹرلرجیکل کارپوریشن (ایم سی سی ) کے درمیان سیندک میں سونے اور تابنے کی لیز معاہدے کی مدت میں ایک سالہ توسیع کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے قبل ایم سی سی کے صدر ژانگ منگ ژنگ اور دیگر اعلی حکام سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیندک منصوبہ کو تجارتی آپریشن کی سطح پر لانے کے سلسلہ میں ایم سی سی کا کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے 1500 پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے مقامی دیہات کو مفت خدمات کی فراہمی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے طویل المیعاد بنیادوں پر شہریوں کو فوائد ملیں گے، انہوں نے کہاکہ حکومت نے سرمایہ کاروں کیلئے سازگار اور دوستانہ پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
ایم سی سی کے صدر نے گرمجوشی سے استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں محفوظ ماحول میں کام کر رہی ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اﷲ زہری، پاکستان میں چینی سفارتخانہ کے ناظم الامور ژاؤ لی جیان، پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن اور بلوچستان حکومت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کی قلت کو دور کرنے کیلئے قطر سے ایل این جی برآمد کرنے کا معاہدہ کیا گیا،گزشتہ حکومتوں نے ایل این جی برآمد کرنے کی کوشش کی اور ان کے نتائج صفر رہے اور ملک توانائی کی قلت کا شکار ہوا، ایل این جی کی برآمد کے بعد گیس کے بحران کا مسئلہ حل ہوا، اب وافر گیس سارے ملک میں دستیاب ہے اور اس سے ملک کی معیشت کو فائدہ ہوا، معاہدے سے قبل کھادیں امپورٹ کی جاتی تھی اب ایکسپورٹ کر رہے ہیں، صنعتوں کو بلا تعطل گیس فراہم کی جارہی ہے ۔
فرنس آئل کے مقابلے میں سستی بجلی پیدا کی جا رہی ہے ،قطر دنیا میں ایل این جی پیدا کرنے والی سب سے بڑا ملک ہے، 15سالوں میں یہ سستا ترین معاہدہ ہے، معاہدے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں،آ ج بھی معاہدے کے تحت سستی قیمت پر گیس برآمد کی جارہی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ چیئرمین سینیٹ میا ں رضا ربانی نے قطر سے ایل این جی برآ مد کے حوالے سے معاہدے کے تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایوان میں بیان پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پراپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے روئیے کیخلاف ایوان سے واک آ ؤٹ کیا۔
جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینٹر شیری رحمن کی جانب سے پیش کئے گئے پاکستان اسٹیٹ آ ئل اور قطر گیس کے درمیان 2016کو ہونے والے ایل این جی معاہدے جس کے تحت ایل این جی معاہدہ میں طہ شدہ قیمت پر2026سے قبل دوبارہ بات چیت نہیں ہو سکتی ۔
پر ایل این جی کی قیمت دوبارہ طے کرنے کے لئے دوبارہ بات چیت کی پرائس ریویو نو ٹس کی جانب وزیر توانائی کی توجہ مبذول کرانے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نو ٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کی کمی کو دور کرنے کیلئے ایک طریقہ تھا کہ گیس کی مقدار بڑھائی جائے اور ایل این جی برآمد کی۔
گزشتہ حکومتوں نے ایل این جی برآمد کرنے کی کوشش کی اور ان کے نتائج صفر رہے اور ملک توانائی کی قلت کا شکار ہوا، صنعتوں میں گیس بند کارخانے اور سی این جی سٹیشن بند تھے۔ ایل این جی کی برآمد کے بعد مسئلہ حل ہوا، اب وافر گیس سارے ملک میں دستیاب ہے اور ملک کی معیشت کو فائدہ ہوا، پہلے فرٹیلائزر امپورٹ کی جاتی تھی اب ایکسپورٹ کر رہے ہیں، اب سستی بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
فرنس آئل کے مقابلے میں ،یہ دو ممالک کی حکومتوں کے درمیان معاہدہ تھا، حکومتوں نے کمپنیوں کے ذریعے معاہدہ ہوا قطر دنیا میں ایل این جی پیدا کرنے والی سب سے بڑا ملک ہے اور پریمیم پر ایل این جی فروخت کرتا ہے، معاہدے کے تحت ساری معلومات ویب سائٹ پر نہیں ڈالی گئی۔
معاہدے کی تفصیلات موجود ہیں، یہ سستا ترین معاہدہ تھا، آج بھی 15سالوں میں یہ سستا ترین معاہدہ ہے، یہ قطر کا پہلا معاہدہ تھا جس میں قیمتوں کے تعین پر بحث کی گئی ہے، دس سال تک قیمتوں پر نظرثانی کی گنجائش ہے، معاہدے کا میں مکمل ذمہ دار ہوں، نظرثانی کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود اپنی ذمہ داری سے کرایا، یہ سستی ترین قیمت پر معاہدہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں چئیرمین سینیٹ کی جانب سے سینیٹر اعتزاز احسن کو توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرنے سے منع کرنے پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیراعظم کو قطر سے ایل این جی کے معاہدے کی ۔
تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔چئیرمین سینیٹ نے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق کو اپوزیشن کے ارکان کو واپس ایوان میں لانے کے لئے کہا جس پر راجہ ظفر الحق پیپلز پارٹی کے ارکان سے بات چیت کے بعد واپس آ ئے اور آ گاہ کیا ارکان نے کہا ہے کہ وہ پریس کانفرنس کریں گے۔قبل ازیں توجہ دلاؤ نو ٹس پر جواب دیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ انتہائی اہم معاملہ ہے وزیراعظم کا شکریہ دا د کیا ۔
نہوں نے اہمیت دی اور جواب دینے کیلئے خود تشریف لائے، 2016میں ایل این جی کی دوحہ میں ڈیل پر دستخط کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ ڈیل دس سال کیلئے کی گئی تھی، لوڈشیڈنگ میں کہا گیا تھا کہ کمی آئے گی۔
معاہدے کی تفصیلات مانگی گئیں لیکن پارلیمنٹ کو نہیں دی گئیں اور ویب سائٹ پر قیمتوں کو نہیں ظاہر کیا گیا، پاکستان زائد شرح سے قیمت ادا کر رہا ہے، معاہدے کے تحت قطر کے ساتھ گیسکی قیمتوں کی دوبارہ نظر ثانی نہیں کی جا سکتی۔
رینٹل پاور منصوبہ اس سے تین گنا کم قیمت پر سائن ہوا تھا، حکومت عدالت میں گئی اور منصوبہ منسوخ ہوا اور عالمی ثالثی کی عدالت کے فیصلے کے تحت 800ملین ڈالر جرمانہ ادا کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ کو ایل این جی معاہدے کی تفصیل فراہم کی جائے۔