|

وقتِ اشاعت :   November 2 – 2017

 

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف لندن سے واپس اسلام آباد پہنچنے کے بعد قافلے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت میں اپنی رہائش گاہ پنجاب ہاؤس پہنچ گئے۔

قومی ایئر لائن کی فلائٹ نمبر پی کے 786 نواز شریف کو لیکر اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچی تھی جہاں ان کے استقبال کے لیے لیگی رہنماؤں سمیت پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

لیگی قیادت نے نواز شریف کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا جبکہ سابق وزیر اعظم نے ان کا استقبال کے لیے آنے والے رہنماؤں سے مصافحہ بھی کیا۔

نواز شریف قافلے کی صورت میں پنجاب ہاؤس روانہ ہوئے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، پارٹی رہنما آصف کرمانی اور پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات پرویز رشید سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف پنجاب ہاؤس میں وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیران سے ملاقات کریں گے جبکہ پارٹی کے اہم اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) حکام کی ٹیم عدالتی کارروائی اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ نہیں پہنچ سکی تھی۔

خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے نواز شریف لندن سے اسلام آباد پہنچے۔

یاد رہے کہ نواز شریف گزشتہ ماہ 5 اکتوبر کو لندن روانہ ہوگئے تھے جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمار داری کی جو کہ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے 3 نومبر تک عدالت میں پیش ہونے کا آخر موقع دیا تھا، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کو نیب حکام پاکستان آمد پر گرفتار کر سکتے ہیں۔

پاکستان روانگی سے قبل لندن میں نجی چینل ‘جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’جو احتساب کیا جارہا ہے اس کا مقصد انصاف کا بول بالا کرنا نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے، لیکن پھر بھی عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستان جارہا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اقامہ کو بنیاد بناکر نااہلی سے پاکستان کو نقصان پہنچا، سیسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے ریمارکس دینے والی عدالت کا بہادری سے سامنا کیا، جبکہ ہر طرح کی جانبداری کے باوجود عدالتوں کا سامنا کروں گا۔‘