|

وقتِ اشاعت :   November 3 – 2017

اسلام آباد:  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان میں نولانگ ڈیم منصوبہ کی تعمیر کیلئے جاری کئے گئے دو ارب روپے واپڈا حکام ڈیم تعمیر کرنے کی بجائے الفلاح بینک میں سرمایہ کاری بانڈز خرید لئے تھے پی اے سی نے اس سکینڈلز کے ذمہ دار سابق سیکرٹری پانی و بجلی اور چیئرمین واپڈا کو طلب کرلیاہے ۔

پی اے سی نے تمام قومی اداروں کو فنڈز نیشنل بینک کے علاوہ نجی بینکوں میں ڈیپازٹ کرانے پر بھی پابندی لگادی ہے پی اے سی میں لاہور میں سرینا وہٹل کی تعمیر میں مبینہ سات ارب روپے کی کرپشن کا بھی انکشاف ہوا ہے اس سکینڈلز کا ملزم ظفر گوندل ہے ۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ ای او بی آئی میں لوٹے گئے اربوں روپے سے منڈی بہاؤ الدین میں عوامی جلسے منعقد کئے جارہے ہیں اور ان جلسوں سے عمران خان خطاب کررہے ہیں ظفر گوندل نے ایک کنال گھر کی کنلسٹنی فیس ایک کروڑ روپے لاہور کی کمپنی کو دی تھی جس کی تحقیقات کی ہدیات بھی کی گئی ہے ۔

پی اے سی نے ای او بی آئی کی طرف سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری پر بھی پابندی عائد کردی ہے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ظفر گوندل نے ایڈن گارڈن لاہور ریور ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور اور پاک عرب ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے مالکان سے مل کر مبینہ بیس ارب روپے کی کرپشن کررکھی ہے اور یہ بیس ارب روپے سوسائٹی مالکان کو چیکوں کی بجائے کیش کی صورت میں ادا کئے گئے تھے ۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں شیخ روحیل اصغر نوید قمر ، ڈاکٹر عذرا پیچوہو اعظم سواتی شفقت محممود عارف علوی ، راجہ جاوید اخلاص سید احمد مینس وغیرہ نے شرکت کی اجلاس میں نولانگ ڈیم کرپشن سکینڈل اور ای او بی آئی میں اربوں روپے کرپشن سکینڈلز پر متعلقہ حکام نے بریفنگ دی ۔

2.437 ارب روپے بینک الفلاح میں رکھے ہیں جس پر فنڈز نولانگ ڈیم کی تعمیر کیلئے چار سال پہلے ریلیز ہوئے تھے پی اے سی نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری فنڈز نیشنل بینک کے سوا کسی نجی بینک میں نہ ڈیپازٹ کرائے جائیں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز کی حالت خستہ حال ہے متعدد منصوبے صوبوں کو دیئے لیکن صوبائی حکومتوں نے مکمل نہیں کئے لیکن عملہ کی تنخواہ وفاقی حکومت ادا کررہی ہے ۔

پی اے سی نے کہا کہ 446 ملین روپے اگر غائب ہوئے ہیں تو پتہ چلایا جائے واپڈا کی حالت بہت بری ہے افسران کی نااہلی کے باعث دو سو ارب روپے بجلی چوری کی نذر ہوجاتے ہیں پی اے سی نے استفسار کیا کہ دو سو ارب روپے بینک الفلاح میں کیوں رکھے ہوئے ہیں ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے تاہم وہ ریٹائرڈ نہ ہوجائیں یہ فنڈز بینک میں 2009ء میں ڈیپازٹ کردیئے گئے ہیں جب ڈالر کی قیمت کم تھی ۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اربوں روپے بینکوں میں رکھنے کی بریفنگ اگلے اجلاس میں دے دینگے جس پر پی اے سی نے کہا کہ آج ہم بیٹھے ہیں آ ج ہی بریفنگ دیں وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ نجی بینکوں میں فنڈز رکھنے کی ممانعت ہے ۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزارت نے دوارب کاکھوج کیوں نہیں لگایا ؟ پی اے سی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان نے نولانگ ڈیم کی تعمیر کیلئے این او سی جاری کردیا ہے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ کئی سال تک فنڈز بینکوں میں رکھنے کے مقاصد کیا تھے چیئرمین واپڈا نے بھی کوتاہی برتی ہے ۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جبکہ حاصل کئے گئے قرضے پر سود ادا کرنا صوبائی حکومت میں دلچسپی نہیں ہے ہماری طرفسے اب کوئی مسئلہ نہیں ہے سود 3.2 ارب روپے پر مسئلہ ہے اس کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔

تاہم اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بلوچستان حکومت نے ابھی تک این او سی جاری نہیں کیا خورشید شاہ نے کہا کہ نو ارب کا اٹھائیس ارب تک منصوبے کی لاگت میں اضافہ کرنے والوں کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔

پی اے سی نے حکم دیا کہ بینک میں ڈیپازٹ کرنے والے دوارب رکھنے والے سیکرٹری پانی و بجلی اور چیئرمین واپڈا کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ہے سید خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ میں ڈیم کا منصوبہ پر تیس کروڑ خرچ کرکے ختم کردیا گیا ہے پندرہ دن تک یہ معاملہ ملتوی کردیا ہے۔