کراچی: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سپریم کورٹ رجسٹری میں رپورٹ جمع کرواکرپولیس کی کالی بھیڑوں کے رازافشا کردیئے۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی جانب سے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رپورٹ جمع کروائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس افسران زمینوں پرقبضے، شہریوں سے بھتہ لینے، اسمگلنگ سے مال کمانے جیسے سنگین کالے دھندوں میں ملوث ہیں۔
رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی فیروزشاہ، ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے جب کہ سکھرمیں تعیناتی کے دوران جرائم پیشہ عناصرکی سرپرستی بھی کی۔ سابق ایس پی کیپٹن ایس علی چوہدری عملے اورشہریوں سے رشوت وصولی کے مرتکب پائے گئے جب کہ ایس ایس پی اینٹی کارلفٹنگ سیل منظورعلی نے شہری سے بھتہ وصول کیا۔
سابق ایڈیشنل آئی جی اعتزازاحمد گورایہ غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث پائے گئے۔ ایس پی جان محمد نے شہری کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا جب کہ سابق ایڈیشنل آئی جی ٹریفک خادم حسین بھٹی ماتحت عملے سے بیٹ وصول کرتے رہے اورآئی بی کو بھی چونا لگایا۔ انٹیلی جنس بیورو کے سیف ہاؤس میں 2014 میں قیام کیا اورکرایہ ادا نہیں کیا۔ سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے غیر قانونی بھرتیاں کیں، ریفرنس بھی نیب میں زیرسماعت ہے۔
شراب پینے پر ڈی ایس پی تیمور کو معطل کیا گیا جب کہ ڈی ایس پی نیئرالحق غیر اخلاقی دھندوں سے رقم جمع کرنے میں ملوث رہے، ڈی ایس پی خالد حسین مخدومی نے غیرقانونی طریقے سے دستاویزات میں تاریخ پیدائش تبدیل کی تو خاتون ڈی ایس پی ناز پروین نے بھی اپنی تعلیمی اسناد میں ہیرپھیرکی۔
اس حوالے سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کہتے ہیں گریڈ 16 اوراس سے کم گریڈ کے 184 پولیس افسران کو سزائیں دے دی ہیں جب کہ سینئر افسران کے خلاف کارروائی ان کا اختیارنہیں۔