کوئٹہ: کوئٹہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں لیویز اہلکار جاں بحق ایک شخص زخمی ہوگیا ،گھر سے لاش برآمد ،تربت سے تمپ سے گولیوں سے چھلنی لاش برآمد،شناخت صلاح الدین کے نام سے کر لی گئی ۔
اوستہ محمد اور پنجگور میں دو افراد قتل کر دیئے گئے ،گوادر سیکورٹی فورسز قافلے پر بم حملہ 2اہلکار زخمی ،ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیاگیاایک شخص زخمی ،آپریشن رد الفساد کے تحت سیکورٹی فورسز نے 10 افراد گرفتار اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیاگیا ۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے تھانہ کیچی بیگ کی حدود میں منگل کی شام کو قمبرانی روڈ پر مرشد آباد کے قریب انگوری باغ میں تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے لیویز اہلکار 45سالہ محمد اسماعیل ولد محمد اکبر بنگلزئی کو شدید زخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔ لیویز اہلکار موٹرسائیکل پر جارہا تھا۔
محمد اسماعیل کو زخمی حالت میں شیخ زید ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہیں دائیں ران پر دو گولیاں ماری گئی تھیں تاہم خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔ مقتول مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد کا رہائشی تھا۔ قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ٹی ٹی پستول کا ایک خول ملا ہے۔ واقعہ کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ادھر کوئٹہ کے علاقے تھانہ خروٹ آباد کی حدود میں سبزل روڈ پر ظاہر ٹاؤن میں اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالغفار نورزئی ولد نور محمد کی لاش اس کے گھر کی بیٹھک سے ملی ہے۔
پولیس کے مطابق عبدالغفار کو تیز دھار آلے سے ذبح کرکے قتل کیاگیا ہے۔ لاش سول ہسپتال میں ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی۔ پولیس کے مطابق قتل کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ مقتول اکثر اوقات بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ مقتول کیوالد نے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
تیسراواقعہ کوئٹہ کے تھانہ خالق شہید بھوسہ منڈی کی حدود میں مشرقی بائی پاس پر بھوسہ منڈی کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے بائیس سالہ عبدالنبی ولد آدم خان قوم خلجی کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔ زخمی کو گلے میں ایک گولی لگی ہے اور اسے تشویشناک حالت میں سول ہسپتال منتقل کردیاگیا۔
تربت کے علاقے تمپ میں ملک آباد کے قریب ایک شخص کی لاش ملی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کیاگیا ہے۔ مقتول کی شناخت تمپ کے علاقے کونشقلات کے رہائشی صلاح الدین ولد مراد بخش کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق پنجگور کے علاقے وشبود میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے شہاب ولد جواد بلوچ نامی شخص کو اغواء کرنے کی کوشش کی ۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کرکے شہاب کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔
قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ پولیس نے واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے۔لیویز کے مطابق قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ اوستہ محمد میں صدرتھانہ کی حدود اللہ آباد کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے گن پوائیٹ پر علی مرتضی اور لیاقت علی لہڑی سے موٹرسائیکل چھینے کے دوران مزاحمت پر ڈاکوں نے فائیرنگ کرکے علی مرتضی کو قتل کردیا جبکہ لیاقت علی کو شدید زخمی کرکے موٹرسائیکل ،پسٹل اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے ،مزید کاروائی صدر پولیس کررہی ہیں ۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق گوادر کی تحصیل جیوانی کے قریب دشت کے علاقے کنڈا سول میں سیکورٹی فورسز کے ایک آفیسر کی گاڑی قافلے کے ہمراہ جارہی تھی۔ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک کنارے بچھائے گئے دیسی ساختہ بم کا زوردار دھماکا ہوا ۔
دھماکے کے نتیجے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں دو سپاہی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں محمد جمیل اور سپاہی اکبر الحق شامل ہیں جبکہ آفیسر کی گاڑی محفوظ رہے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیاگیا۔بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں کراچی جانے والی مسافر ٹرین بم دھماکے کے نتیجے میں پٹڑی سے اترگئیں۔
ایک مسافر زخمی جبکہ دو بے ہوش ہوگئے۔ دھماکے سے ریلوے پٹڑی کا کئی فٹ حصہ تباہ ہوگیا۔ ڈی آئی جی نصیرآباد ریجن نذیر احمد کرد کے مطابق منگل کی شام کو نصیرآباد کے قریب ڈیرہ مراد جمالی اور منگولی کے درمیان ریلوے پٹڑی پر اس وقت دھماکا ہوا جب وہاں سے کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر ٹرین بولان میل گزر رہی تھی۔
دھماکا ریموٹ کنٹرول بم کا تھا جس کے نتیجے میں ریلوے پٹڑی کا پٹڑی کا دس فٹ سے زائد حصہ اکھڑ گیا جبکہ دھماکے کی جگہ پر کئی فٹ گہرا گڑھا بھی بن گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں دوسری بوگی سے لیکر آخری بوگی تک مجموعی طور پر سات بوگیاں پٹڑی سے اتریں اور اس کے نتیجے میں ایک مسافر جیکب آباد کا رہائشی ساگر زخمی ہوا۔ دو مسافر زخمی بے ہوش بھی ہوئے۔
زخمی مسافر کو قریبی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کردی گئی اور اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔دھماکے کے وقت ایف سی اور ریلوے پولیس اہلکار ٹرین کی حفاظت پر مامور تھے جنہوں نے دھماکے کے بعد ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ریلوے حکام کے مطابق انجن اور آٹھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں دو سو سے زائد مسافر سوار تھے۔ مسافروں کو منزل تک پہنچانے کیلئے سکھر سے خصوصی ٹرین روانہ کردی گئی۔
دوسری جانب ریلوے پٹڑی کی مرمت کیلئے جیکب آباد سے ریلوے ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ سبی سے کرین انجن بھی روانہ کردیا گیا جو بوگیوں کو واپس پٹڑی پر لائیگا۔ دریں اثناء وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ٹرین کے ساتھ ایف سی اور ریلوے پولیس کے مسلح اہلکار موجود تھے جنہوں نے ایف سی اور ریلوے پولیس نے پیشہ وارانہ ذمے داری ادا کی۔
دھماکے کے بعد ٹرین پر کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ دھماکے سے بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا صرف ایک مسافر معمولی زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد امدادی کاموں کی نگرانی وہ خود کررہے ہیں۔
مسافروں کو سیکیورٹی حصار میں پہلے جیکب آباد پہنچایا جائیگا جہاں انہیں رات کا کھانا پیش کیا جائیگا۔ جیکب آباد سے انہیں اپنی منزل کراچی پہنچادیا جائیگا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافر ٹرین پر حملہ حملہ دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائی ہے۔
سیکورٹی فورسز کے مطابق بلوچستان میں رد الفساد آپریشن کے تحت ڈیرہ مراد جمالی اور ڈیرہ بگٹی میں کا رروائی کر تے ہوئے10 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، اسلحہ وگولہ بارود برآمد کر لیا مزید تفتیش کی جا رہی ہے ۔ رات گئے ملنے والی اطلاع کے مطابق خاران میں پویس لائن پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
کوئٹہ، گوادر، تربت، پنجگور میں فائرنگ و دھماکے 5افراد جاں بحق، نصیرآباد میں مسافر ٹرین پر حملہ
![]()
وقتِ اشاعت : January 31 – 2018