|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2018

کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 35 سے متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار نامزدبلوچستان نیشنل موومنٹ اورجمعیت علماء اسلام کا نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی حمایت کااعلان۔

گزشتہ روز سراوان ہاؤس میں نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر حئی بلوچ کا کہنا تھاکہ عوام کو منظم کرتے ہوئے ان کی طاقت سے خلائی مخلوق کو روکا جاسکتا ہے ۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے ہمیشہ وفاق میں بلوچستان کی مقدمہ بہتر انداز میں لڑتے ہوئے صوبے کے حقوق کی بات کی ہے ۔اپنے دور حکومت میں انہوں نے بلوچستان کے ساحل وسائل سیندک اورریکوڈک منصوبہ سے متعلق واضح موقف اختیار کیا ۔ 

ڈاکٹر حئی بلوچ کاکہنا تھا کہ مستونگ کے باشعور عوام نے 1948 سے لیکر آج تک ہر دور میں قوم پرستانہ جدوجہد کا ساتھ دیا ہے ۔ امید ہے سیاسی سوچ وفکر رکھنے والے لوگ نواب اسلم رئیسانی کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں انہیں کامیابی سے ہمکنار کریں گے ۔ 

اس موقع پر نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی کاضمنی انتخابات میں بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ کی حمایت پر نواب اسلم رئیسانی کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں مصنوعی حکومت بنانے والے ضمنی انتخابات میں ریاستی مشینری استعمال کرتے ہوئے جعلی مینڈیٹ کے ذریعے سرکاری امیدوار کوآگئے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو مستونگ اور بلوچستان کے عوام کو ساتھ لیکر اپنے آئینی اور جمہوری حق کیلئے سیاسی مذاحمت کرینگے ۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی نے ضمنی انتخابات میں ریاستی مشینری کے استعمال ہونے سے متعلق الیکشن کمیشن آ ف پاکستان، صوبائی الیکشن کمیشن اور ڈی آر او کو بذریعہ خطوط آگاہ کردیاہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں مستونگ اور وڈھ کی نشست پر بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہمارے اتحادی جماعتوں کے مینڈیٹ پر شپ خون مارنے کی کوشش کرنے والے سیاسی عمل میں مداخلت سے گریز کریں پاکستان کی پارلیمنٹ سے آج آلودہ سیاست کی باتیں اٹھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگ قوم پرست فکر رکھنے والی سیاسی قیادت اور کارکنوں کو بلوچستان کے حقوق کا مشترکہ دفاع کرنا چائیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مستونگ کے سیاسی ذہن رکھنے والے عوام نے قوم پرستانہ سیاسی فکر کے لیے جدوجہد میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور کرتے رئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کی صوبے کے ساحل اور وسائل کو لوٹنے والوں کیخلاف متحدہ ہوکر جدوجہد سے 14 اکتوبر کومستونگ اور وڈھ میں ریاستی مشینری کو ضمنی انتخابات میں استعمال کرنے والوں کی شکست ہوگی ۔ 

اس موقع پر بی این ایم کے مرکزی رہنماء چنگیز بلوچ، بی این پی کے قاری اختر شاہ کھرل، حبیب اللہ شاہوانی ودیگر بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کا صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 35 پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کرتے ہوئے ۔

جمعیت علماء اسلام کے نامزد امیدوار رئیس غلام حیدر کو نواب رئیسانی کے حق میں دستبردار کرنے کے موقع پر مدرسہ دارلعلوم بروری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مستونگ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجہ میں شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت دو سو سے زائد افراد کی شہادت سے نواب اسلم رئیسانی اور انکے خاندان کے دیگر افراد کو بہت بڑا صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے ۔

ایسی صورتحال میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان ایک روایت قائم کرتے ہوئے جذبہ خیر سگالی کے تحت نواب اسلم رئیسانی کے حق میں اپنا امیدوار دستبردار کرنے کا اعلان کرتی ہے ۔

مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں ہونے والی بدترین دھاندلی کے باجود مستونگ اور قلات کے قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت علماء اسلام کے منتخب رکن اسمبلی نے مستونگ سے 6 ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں، مستونگ میں جمعیت کی سیاسی قوت مستحکم ہے ۔

نواب اسلم رئیسانی کی حمایت سے بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر دورس نتائج مرتب ہونگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی کی کامیابی سے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 22 ہوکر ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھرے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جماعتیں سینٹ کے انتخابات ساتھ ملکر لڑئیں گی ۔ ان کا کارکنوں کو تاکید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ14 اکتوبر کو نواب اسلم رئیسانی کی کامیابی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں ۔

اس موقع پر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کا ضمنی انتخابات میں حمایت پر نواب اسلم رئیسانی کی جانب سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام نے نواب اسلم رئیسانی کو متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نامزد کرنے کے سیاسی فیصلے سے پورے بلوچستان کو یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ صوبے میں سیاسی عمل کو شفاف طریقہ سے آگئے بڑھانے کیلئے اپوزیشن جماعتیں اپنا کرادر ادا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کے فیصلہ سے پی بی 35 میں نواب اسلم رئیسانی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور 14 اکتوبر کو نواب اسلم رئیسانی کی کامیاب سے بلوچستان کے سیاست میں ایک نئے دور کا آغا ہوگا اورصوبے اور مرکز میں اپوزیشن جماعتیں بلوچستان کے حقوق صوبے کے مسائل کو حل کیلئے اپنا بہتر کردار ادا کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکن اپوزیشن کو کمزور کرکے ایک خاص زہنیت کو مستونگ کے عوام پر مسلط کرنے والوں کا راستہ روکتے ہوئے اپنے بہتر مستقبل کا انتخاب کریں ۔

اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی ملک سکندر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی کے خادان کو بہت بڑے صدمے سے گزرنا پڑا ہے جس کا مدوا کرنے کیلئے ہماری پارٹی نے انکی حمایت کا فیصلہ کیا جس کے صوبے کی سیاست پر دورس نتائج برآمد ہونگے ۔

جمعیت علماء اسلام کے پی بی 35 سے نامزد امیدوار رئیس غلام حیدر کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی قیادت کے فیصلہ کی پاسداری کرتے ہوئے وہ نواب اسلم رئیسانی کے حق میں دستبردار ہوئے ہیں ۔